تحریر: شاویز احمد
مہنگائی پاکستان میں اب محض ایک معاشی اصطلاح یا بجٹ کے اعدادوشمار کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن چکی ہے۔ مہینے کے آغاز میں ملنے والی تنخواہ چند ہی دنوں میں راشن، بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم، گھر کے کرائے، علاج اور آمدورفت کے اخراجات میں تقسیم ہو جاتی ہے اور مہینے کے آخری دن اکثر ایک ایسے سوال کے ساتھ آتے ہیں کہ باقی دن کیسے گزارے جائیں گے۔
اعدادوشمار بھی عوام کی اس پریشانی کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی 2026 میں ملک میں صارف قیمتوں کی مجموعی مہنگائی 9.2 فیصد رہی، جبکہ جون کے مقابلے میں صرف ایک ماہ کے دوران قیمتوں میں 1.19 فیصد اضافہ ہوا۔ شہری علاقوں میں سالانہ مہنگائی 8.7 فیصد اور دیہی علاقوں میں 9.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ حساس قیمتوں کا اشاریہ، جس میں عام طور پر روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء شامل ہوتی ہیں، جولائی میں سالانہ بنیاد پر 12 فیصد بڑھا۔
یہ اعداد محض فیصد نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے گھریلو بجٹ کی حقیقت ہیں۔ جب پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو اس کا اثر صرف گاڑی کے ٹینک تک محدود نہیں رہتا۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے، سبزی، پھل، دودھ، آٹا، دالیں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔
بجلی اور گیس کے بل اس مشکل کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ ایک عام گھرانے کے لیے بجلی کا بل اب صرف استعمال شدہ یونٹس کی قیمت نہیں بلکہ مختلف سرچارجز، ایڈجسٹمنٹس اور دیگر مالیاتی بوجھ کا مجموعہ بن چکا ہے۔ بجلی کے نرخوں میں تبدیلیوں کے حوالے سے نیپرا کے ریکارڈ میں سہ ماہی اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹس کا سلسلہ بھی موجود ہے۔
دوسری طرف آمدن میں اضافہ قیمتوں کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں اوسط ماہانہ اجرت تقریباً 39,042 روپے ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اشیاء مہنگی ہو رہی ہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کی حقیقی قوتِ خرید کم ہو رہی ہے۔ اگر کسی شخص کی تنخواہ میں معمولی اضافہ ہو لیکن خوراک، بجلی، کرایہ، تعلیم اور علاج کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ جائیں تو کاغذ پر آمدن بڑھنے کے باوجود اس خاندان کا معیار زندگی دراصل گر رہا ہوتا ہے۔
حالیہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے بھی اسی تضاد کی ایک تصویر پیش کرتا ہے۔ HIES 2024-25 کے مطابق پاکستان میں ایک گھرانے کی اوسط ماہانہ آمدن 82,179 روپے جبکہ اوسط ماہانہ کھپت کے اخراجات 79,150 روپے رہے۔ یعنی اوسطاً آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق محض تقریباً تین ہزار روپے کا رہ جاتا ہے۔ یہ معمولی سا فرق کسی غیر متوقع بیماری، بچے کی فیس، گھر کی مرمت، بجلی کے اضافی بل یا کسی اور ہنگامی ضرورت کی صورت میں فوراً ختم ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔ کم آمدن والا طبقہ تو پہلے ہی بنیادی ضروریات تک محدود زندگی گزارنے پر مجبور ہے، مگر متوسط طبقہ بھی اب اپنی بہت سی ضروریات کو ترجیحات کی فہرست سے نکالنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ بہتر تعلیم، صحت، تفریح، بچت اور مستقبل کے لیے سرمایہ کاری جیسی چیزیں آہستہ آہستہ عیاشی محسوس ہونے لگتی ہیں۔
گھریلو اخراجات کے رجحانات میں شہری اور دیہی پاکستان کے درمیان فرق بھی نمایاں ہے۔ HIES 2024-25 کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے دوران شہری گھرانوں کے اوسط ماہانہ کھپت کے اخراجات 47,362 روپے سے بڑھ کر 95,533 روپے ہو گئے، جبکہ دیہی گھرانوں کے اخراجات 30,908 روپے سے بڑھ کر 67,894 روپے تک پہنچ گئے۔ یہ اضافہ صرف بہتر معیار زندگی کی علامت نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ضروری اخراجات کے دباؤ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
مہنگائی کا ایک اور خطرناک پہلو معاشرتی عدم مساوات میں اضافہ ہے۔ معاشرے کا ایک محدود طبقہ مہنگائی کے اثرات کو نسبتاً آسانی سے برداشت کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس کاروبار، جائیداد، سرمایہ کاری یا دیگر آمدنی کے ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس تنخواہ دار اور کم آمدن والے خاندان کی آمدنی عموماً ایک محدود ذریعہ تک ہوتی ہے۔ قیمتیں بڑھیں تو ان کے پاس اخراجات کم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا۔
یہی وجہ ہے کہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی ہے۔ جب گھر کا بجٹ کم پڑتا ہے تو سب سے پہلے خوراک کے معیار، بچوں کی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات متاثر ہوتی ہیں۔ ایک خاندان اگر علاج مؤخر کرے، بچے کی اضافی تعلیمی سرگرمی ختم کرے یا بہتر خوراک کی جگہ سستی خوراک اختیار کرے تو اس کے اثرات فوری طور پر نظر نہیں آتے، مگر طویل مدت میں یہ معاشرے کے انسانی سرمائے کو کمزور کرتے ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی کے مسئلے کو صرف پٹرولیم مصنوعات یا بجلی کے نرخ کم کرکے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وقتی ریلیف ضرور دے سکتا ہے لیکن پائیدار حل کے لیے معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہوگا۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے، پیداواری شعبے کو فروغ دینا ہوگا، مقامی صنعت اور زراعت کو سہارا دینا ہوگا اور ایسی معاشی پالیسیاں بنانا ہوں گی جن سے لوگوں کی حقیقی آمدن میں اضافہ ہو۔
اسی طرح اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی بھی ناگزیر ہے۔ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت، ناجائز منافع خوری اور غیر مؤثر سپلائی چین کے خلاف کارروائی صرف اعلانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کو قیمتوں کی نگرانی کے ایسے نظام کو مؤثر بنانا ہوگا جس میں پیداوار، تھوک، ترسیل اور ریٹیل کی سطح پر قیمتوں کے فرق کو مسلسل مانیٹر کیا جائے۔
توانائی کا شعبہ بھی بنیادی اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔ بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے محض سبسڈی دینا کافی نہیں؛ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نقصانات، گردشی قرضے، لائن لاسز اور انتظامی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔ اسی طرح گیس اور پٹرولیم کے شعبے میں بھی ایسی پالیسی درکار ہے جو ایک طرف قومی مالیاتی ضروریات پوری کرے اور دوسری طرف عام صارف پر ناقابل برداشت بوجھ نہ ڈالے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو آمدن بڑھانے کی پالیسیوں پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ صرف ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ریاستی آمدن بڑھانا نسبتاً آسان راستہ ہے، لیکن اس کا بوجھ اگر بار بار بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عام صارف پر منتقل کیا جائے تو مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بناتے ہوئے غیر دستاویزی معیشت، ٹیکس چوری اور غیر پیداواری مراعات کے خاتمے پر توجہ دینا زیادہ مؤثر راستہ ہوگا۔
سب سے بڑھ کر پاکستان کو ایسی معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جو صرف مہنگائی کی شرح کم کرنے کے بجائے عام آدمی کی قوت خرید بڑھانے کو اپنا بنیادی مقصد بنائے۔ 9.2 فیصد مہنگائی سے 5 یا 6 فیصد تک آ جانا یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہوگی، لیکن اگر قیمتیں ایک بلند سطح پر پہنچنے کے بعد وہیں برقرار رہیں اور آمدن میں مناسب اضافہ نہ ہو تو عام شہری کے مسائل ختم نہیں ہوں گے۔
حکومت کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں ہونی چاہیے کہ سرکاری اعدادوشمار میں مہنگائی کا گراف نیچے آ گیا ہے، بلکہ یہ ہونی چاہیے کہ ایک عام تنخواہ دار شخص مہینے کے آخر میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے بعد کچھ رقم بچا بھی سکے، ایک کم آمدن والا خاندان اپنے بچوں کو مناسب خوراک اور تعلیم فراہم کر سکے اور کسی بیماری یا ہنگامی صورتحال میں قرض لینے پر مجبور نہ ہو۔
پاکستان میں معاشی استحکام اسی وقت حقیقی معنوں میں عوامی کامیابی بنے گا جب اس کے ثمرات عام آدمی کے کچن، بجلی کے بل، بچوں کی فیس اور ماہانہ راشن میں محسوس ہوں گے۔ ورنہ معاشی ترقی کے بڑے بڑے اعداد اور پالیسیوں کے دعوے اپنی جگہ، عام شہری کے لیے سب سے اہم سوال یہی رہے گا کہ مہینے کی آمدن ختم ہونے سے پہلے مہینہ ختم کیوں نہیں ہوتا؟
