ہومتازہ ترینایم سی آئی کیش لیس، کانٹیکٹ لیس اور پیپر لیس نظام کی جانب گامزن ،اہم میونسپل سروسز اب پاک ایپ کے ذریعے دستیاب

ایم سی آئی کیش لیس، کانٹیکٹ لیس اور پیپر لیس نظام کی جانب گامزن ،اہم میونسپل سروسز اب پاک ایپ کے ذریعے دستیاب

اسلام آباد(سب نیوز)میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے اہم عوامی نوعیت کی میونسپل سروسز کو پاک ایپ پر دستیاب کر دیا ہے، جو اسلام آباد میں شہری اور میونسپل گورننس کی ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔یہ اقدام اسلام آباد کو کیش لیس، کانٹیکٹ لیس اور پیپر لیس وفاقی دارالحکومت بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے ذریعے شہری، کاروباری افراد اور دیگر متعلقہ افراد سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگائے بغیر ضروری میونسپل سروسز ڈیجیٹل طریقے سے حاصل کر سکیں گے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد شہریوں اور کاروباری اداروں کو مختلف نوعیت کی میونسپل سروسز فراہم کرتی ہے۔ ان میں اشتہارات اور اوپن اسپیس سے متعلق اجازت نامے، پارکنگ پرمٹس، جنریٹر لائسنسز، مختلف میونسپل منظوریوں اور دیگر متعلقہ خدمات شامل ہیں۔ ان سروسز کو پاک ایپ پر دستیاب کرنے سے شہریوں کو میونسپل حکام سے رابطے کے لیے ایک آسان، سہل، جدید اور صارف دوست ڈیجیٹل پلیٹ فارم میسر آ گیا ہے۔

نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت شہری آن لائن درخواست دے سکتے ہیں، مطلوبہ معلومات اور دستاویزات جمع کرا سکتے ہیں، اپنی درخواست کی پیش رفت کا جائزہ لے سکتے ہیں اور ڈیجیٹل طریقے سے ادائیگیاں بھی کر سکتے ہیں۔ اس نظام سے کاغذی کارروائی اور غیر ضروری سرکاری دفاتر کے دوروں میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ عوامی خدمات کی فراہمی مزید آسان، مثر، تیز اور شہری دوست بنے گی۔ڈیجیٹل گورننس کا مقصد صرف روایتی طریقہ کار کو آن لائن منتقل کرنا نہیں بلکہ شہریوں اور حکومت کے درمیان رابطے کے پورے نظام میں بنیادی تبدیلی لانا ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسا شفاف، قابلِ پیش گوئی، مثر اور شہری مرکزیت پر مبنی سروس ڈلیوری نظام قائم کرنا ہے، جس میں غیر ضروری انتظار، پیچیدہ طریقہ کار، صوابدیدی اختیارات اور درمیانی افراد یا مڈل مین پر انحصار کو کم کیا جا سکے۔ڈیجیٹل نظام سے شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی نگرانی مزید مضبوط ہوگی۔ درخواستوں، منظوریوں، ادائیگیوں اور دیگر لین دین کا الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ ہوگا، جس سے ایک واضح ڈیجیٹل ریکارڈ تشکیل پائے گا اور سروس ڈلیوری کی مثر نگرانی ممکن ہوگی۔ اس کے ساتھ شکایات کے ازالے کا مربوط نظام بھی شہریوں کو اپنی شکایات اور سروس سے متعلق مسائل کے اندراج، ان کی پیش رفت جانچنے اور حل تک رسائی کی سہولت فراہم کرے گا۔ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے میونسپل سروسز کے طریقہ کار کو بھی یکساں اور معیاری بنایا جائے گا۔ شہریوں کو مطلوبہ دستاویزات، شرائط اور طریقہ کار واضح طور پر دستیاب ہوں گے، جس سے غیر یقینی صورتحال میں کمی، طریقہ کار میں یکسانیت اور تمام درخواست گزاروں کے لیے مساوی معلومات اور ڈیجیٹل سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے گی۔یہ اقدام اسلام آباد کو سمارٹ، جدید اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ شہری گورننس کے ماڈل کے طور پر ترقی دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ٹیکنالوجی کو اس مقصد کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے کہ حکومتی خدمات شہریوں کے لیے مزید آسان، تیز اور قابلِ رسائی بنائی جائیں۔

غیر ضروری سرکاری دوروں، کاغذی کارروائی اور پیچیدہ طریقہ کار کی جگہ ایسے شفاف، قابلِ پیش گوئی اور آسان ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے جو شہری اپنے موبائل فون کے ذریعے استعمال کر سکیں۔ ڈیجیٹل گورننس محض ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو آسان، تیز، شفاف اور زیادہ جوابدہ بنانے کا عمل ہے۔شہری اور میونسپل سروسز کی ڈیجیٹل تبدیلی سے شہریوں اور کاروباری افراد کے سروس ڈلیوری کے تجربے میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ ادارہ جاتی کارکردگی، نگرانی اور جوابدہی بھی مزید مضبوط ہوگی۔ ایم سی آئی، پی آئی ٹی بی کے تعاون سے جدید، شفاف اور شہری دوست گورننس کے وژن کو عملی سروس ڈلیوری اصلاحات میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔میونسپل سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے شہریوں کو واضح طریقہ کار، ڈیجیٹل درخواست اور ادائیگی کی سہولت، درخواستوں کی آن لائن ٹریکنگ اور شکایات کے ازالے کے مربوط نظام تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے غیر ضروری درمیانی کرداروں میں کمی اور شفافیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ڈیجیٹل نظام ایم سی آئی کو داخلی نگرانی مضبوط بنانے، قابلِ اعتماد الیکٹرانک ریکارڈ برقرار رکھنے، ورک فلو مینجمنٹ بہتر بنانے اور میونسپل آپریشنز کی مجموعی کارکردگی میں اضافے میں بھی مدد دے گا۔یہ اقدام ایم سی آئی کے وسیع تر اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت ٹیکنالوجی، جدت، شفافیت، جوابدہی اور عوامی سہولت کے ذریعے اسلام آباد کے شہری انتظامی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے روایتی کانٹر پر مبنی نظام سے بتدریج جدید سروس ڈلیوری ماڈل کی جانب منتقلی کو فروغ دیا جائے گا، جس میں شہری اپنی ضروریات کے مطابق متعلقہ سروسز تک اپنے موبائل فون کے ذریعے کہیں سے بھی رسائی حاصل کر سکیں گے، تاہم متعلقہ سروس کی مقررہ شرائط لاگو ہوں گی۔اس اقدام کے نتیجے میں کاغذی کارروائی میں کمی، سرکاری دفاتر کے کم دورے، ڈیجیٹل ادائیگیوں، بہتر پراسیسنگ، ریکارڈ مینجمنٹ میں بہتری، شفافیت میں اضافہ، مثر جوابدہی اور شکایات کے ازالے کے بہتر نظام سمیت متعدد فوائد حاصل ہوں گے۔میونسپل گورننس کو کیش لیس، کانٹیکٹ لیس اور پیپر لیس بنانے کی جانب پیش رفت اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد میں ٹیکنالوجی شہریوں کے لیے کام کرے، عوامی خدمات تک رسائی آسان ہو اور حکومتی طریقہ کار مزید شفاف، مثر، قابلِ پیش گوئی اور جوابدہ بنائے جائیں۔یہ اقدام اسلام آباد کو ایک سمارٹ، جدید اور شہری مرکزیت پر مبنی وفاقی دارالحکومت میں تبدیل کرنے کے وژن کو مزید تقویت دیتا ہے، جہاں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی شہریوں اور حکومت کے درمیان ایک مثر اور مضبوط رابطے کا ذریعہ بنے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔