ہومپاکستانقائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی کا احترامِ انسانیت، قیامِ امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر زور

قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی کا احترامِ انسانیت، قیامِ امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر زور

اسلام آباد(سب نیوز)قائم مقام صدر پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے ملک میں برداشت، احترامِ انسانیت، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پرامن، متحد اور مضبوط پاکستان کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وہ منگل کو عالمی امن کے فروغ، بین المذاہب ہم آہنگی، احترامِ انسانیت اور پیغامِ پاکستان بیانیے کے فروغ میں پاکستان کا کردار کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی بین المذاہب امن کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔کانفرنس کا انعقاد انٹر فیتھ کونسل فار پیس اینڈ ہارمنی اور مجلس علما پاکستان کے زیر اہتمام کیا گیا۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قومی سلامتی اور قومی یکجہتی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقصد کے حصول میں علما و مشائخ، مذہبی رہنماں، پارلیمان، میڈیا، سول سوسائٹی اور بالخصوص نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کو محض ایک دستاویز تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قومی عزم و عہد میں تبدیل کرنا ہوگا، تاکہ برداشت، احترامِ انسانیت، امن، صبر، رواداری، قبولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہماری روزمرہ قومی زندگی کا حصہ بن سکیں۔قائم مقام صدر نے کہا، آئیے آج ہم سب اس عزم کی تجدید کریں کہ ہم پاکستان کو نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے تعمیر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط، متحد اور پرامن ملک کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

انہوں نے ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور تشدد کا سامنا کرتا آیا ہے، جبکہ ملکی سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج نے دشمن عناصر اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف مسلسل جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مختلف کارروائیوں، بشمول آپریشن بنیان المرصوص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے امن اور سلامتی کے تحفظ کے پختہ عزم کا مظہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفاع پاکستان کی ضرورت ہے جبکہ امن اس کی منزل ہے۔ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کا مقصد جنگ کو فروغ دینا نہیں بلکہ ملکی خودمختاری کا تحفظ، علاقائی استحکام کا قیام اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔قائم مقام صدر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی سطح پر مذاکرات، مفاہمت اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کی ہے اور خطے میں بڑے تنازعات کے دوران کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف آئینی ذمہ داری بلکہ مذہبی، اخلاقی اور قومی فریضہ بھی ہے۔ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو سماجی مساوات، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں نے تعلیم، صحت، دفاع، سیاست، معیشت، سماجی خدمت اور دیگر شعبوں میں ملک کی ترقی میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ برداشت، مساوات اور یکساں حقوق کے فروغ میں پارلیمان کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اقلیتی برادریوں کے لیے پارلیمانی فورم کے قیام کو ایک اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اقلیتوں کے مسائل کو اجاگر کرنے، پارلیمانی شرکت کو مضبوط بنانے اور قومی فیصلہ سازی میں ان کی مثر نمائندگی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ احترامِ انسانیت اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے، جو انسانی وقار، جان، مال اور بنیادی حقوق کے تحفظ پر خصوصی زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد ۖ کی حیاتِ طیبہ عدل، برداشت، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ حسنِ سلوک اور پرامن بقائے باہمی کی بہترین مثال ہے۔قائم مقام صدر نے کہا کہ مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں مختلف عقائد اور شناخت رکھنے والے افراد کا احترام کیا جائے، انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول پاکستان کے نظریے اور آئینی نظام میں بھی نمایاں طور پر موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک کثیرالمذاہب معاشرہ ہے اور اس کا آئین تمام شہریوں کو سماجی مساوات، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے اس تصور کو بھی یاد دلایا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہو جہاں ہر شہری اپنے عقیدے کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکے۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان میں ہر شخص کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور عالمی امن کے قیام و استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احترامِ انسانیت تمام مذاہب کی مشترکہ قدر ہے۔چیئرمین مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ کا حامی نہیں تاہم اگر اس پر جنگ مسلط کی جائے تو وہ مثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے معرکہ حق اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے کردار کا بھی حوالہ دیا۔مولانا عبدالخبیر آزاد، جو انٹر فیتھ کونسل فار پیس اینڈ ہارمنی کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اتحاد اور امن کی حمایت کی ہے۔سٹی ہارویسٹ چرچ کے بانی پادری کانگ ہی نے پاکستان اور اس کے عوام سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر سطح پر اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے مصیبت زدہ انسانوں کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنے اور نفرت کے خلاف متحد ہو کر امن کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے پر زور دیا۔وزیراعظم کے مشیر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس نے کہا کہ انسانیت کی خدمت تمام مذاہب کی مشترکہ قدر ہے۔ انہوں نے پاکستانی قوم کو امن کے سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز نہیں برتا جاتا۔انہوں نے پاکستان میں مذہبی سیاحت کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مذہبی ورثے اور سیاحتی استعداد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے پہلی مرتبہ مذہبی سیاحت کانفرنس کے انعقاد کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے خدمات اور گراں قدر کردار ادا کرنے والی شخصیات میں امن ایوارڈز بھی تقسیم کیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔