لاہور (سب نیوز)اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ ملکی دفاع میں پاک فوج کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، فوج نے ملک کو درپیش مشکلات کا سامنا کیا اور ہر مشکل وقت میں ملک کی حفاظت میں دیوار کا کردار ادا کیا۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہاکہ جغرافیائی حقائق کو نظرانداز کرکے فوج پر تنقید نہیں ہونی چاہیے، کسی سیاسی جماعت کو فوج کے بارے میں نازیبا بات کرنے کا حق نہیں۔
سیاسی مفادات کے لیے افواج پاکستان کے خلاف مقف اختیار نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان پر روسی حملہ پاک فوج نے نہیں کرایا، اسی طرح گرم پانیوں تک روس کی رسائی کی خواہش بھی فوج نے نہیں کرائی۔ تمام برائیوں کے خلاف کھڑا ہونا فوج کے لیے آسان کام نہیں۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہاکہ وہ ایسے خوف کے سائے میں پلے ہیں کہ گھر سے باہر نکلیں گے تو شاید واپس نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے بہت سے بم دھماکے دیکھے ہیں اور بم دھماکوں میں 70،70 افراد کو جاں بحق ہوتے دیکھا ہے۔ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نے ملک کا دفاع کیا، اس لیے فوج کے سیاسی کردار پر نہیں بلکہ اس کے جیوپولیٹیکل کردار پر بحث ہونی چاہیے۔ پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے لیے فوج کا کردار ناگزیر ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ کا اہم جیوپولیٹیکل معاملہ ہے۔
پاکستان کے قیام کے بعد ملک کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ مسائل کا حل صرف مکالمے سے ممکن ہے۔ملک احمد خان نے کہاکہ پاک فوج کی وردی، تمغے اور بیجز قوم کا فخر ہیں۔ 1965 میں پاک فوج نے بھارتی حملے کا بھرپور مقابلہ کیا، میجر عزیز بھٹی شہید کی قربانی قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو سمجھنے کے لیے عالمی مثالیں دیکھنا ہوں گی۔ اندرا گاندھی نے ملکی سلامتی کے نام پر ایمرجنسی نافذ کی اور ملکی سلامتی کو بنیادی حقوق اور آزادی صحافت پر ترجیح دی گئی۔اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ قومی سلامتی سب سے اہم مسئلہ ہے، باقی معاملات بعد میں آتے ہیں۔ علیحدگی پسند تحریکیں ملک کو کمزور کریں تو ریاست کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج نے ہر مشکل وقت میں ملک کی حفاظت میں دیوار کا کردار ادا کیا ہے اور قوم اپنی افواج کے پیچھے متحد کھڑی ہے۔ ہمیں اپنی فوج کی وردی، نظم و ضبط اور قومی خدمت پر فخر ہے۔ملک احمد خان نے قومی سلامتی کو ہمیشہ اولین ترجیح دینے پر افواج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع اور سلامتی کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے قومی معاملات پر سنجیدہ مکالمہ وقت کی ضرورت ہے۔
