ہومتازہ ترینہواوے کے وفد کی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے ملاقات، مصنوعی ذہانت کے فروغ پر اتفاق

ہواوے کے وفد کی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے ملاقات، مصنوعی ذہانت کے فروغ پر اتفاق

بیجنگ (سب نیوز)وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے چین میں ہواوے کے اعلی حکام پر مشتمل وفد نے ملاقات کی، جس میں پنجاب میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے تزویراتی شراکت داری پر اتفاق کیا گیا۔
ہواوے کے اعلی عہدیداروں نے وزیراعلی مریم نواز شریف اور ان کے وفد کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ ملاقات میں ہواوے کو نواز شریف آئی ٹی سٹی میں بھرپور سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی، جبکہ پنجاب کے ایک ہزار نوجوانوں کو ہواوے ماسٹر ٹرینرز کے طور پر تربیت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ہواوے کی جانب سے پنجاب کی 300 خواتین تربیت کاروں کو بھی مصنوعی ذہانت کی تربیت فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے خصوصی ترسیلی یونٹ کے قیام کی تجویز کا جائزہ لیا گیا، جبکہ نواز شریف آئی ٹی سٹی میں 6 ڈیٹا سینٹرز اور خودمختار ڈیٹا سینٹر کے قیام پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
مریم نواز شریف نے پنجاب کے ساتھ ہواوے کے اشتراکِ کار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے بڑھانا اولین ترجیح ہے۔ پنجاب پاکستان اور جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ فعال صوبہ ہے اور اقتصادی ترقی، جدت، روزگار اور بہتر عوامی خدمات میں معاونت کر سکتا ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ پنجاب حکومت کارکردگی، شفافیت، فیصلہ سازی اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار میں بہتری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کر رہی ہے۔ ٹیلنٹ کی نشوونما اور ٹیکنالوجی تک جامع رسائی پنجاب کی حکمت عملی کے اہم ستون ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کلاڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مقامی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔ معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تزویراتی شراکت داری ڈیجیٹل طور پر بااختیار، فعال، اختراعی اور شہریوں پر مرکوز پنجاب کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
ملاقات میں اسمارٹ سٹی، کمانڈ سینٹر، صحت، تعلیم، زراعت اور صنعتی شعبوں میں ہواوے کے اشتراک، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہنرمندی کے فروغ اور سمارٹ عوامی خدمات کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔صوبائی معاون خصوصی علی ڈار نے پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے دفتر سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں پہلی مرتبہ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور طرز حکمرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کا مثر استعمال یقینی بنایا جارہا ہے۔علی ڈار نے کہا کہ پنجاب مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن کے لیے استعمال کرنے والا پہلا صوبہ بن چکا ہے، جبکہ 2029 تک پنجاب جنوبی ایشیا میں مصنوعی ذہانت سے منسلک اور مربوط نظام رکھنے والا صوبہ بن جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔