ٹورنٹو(آئی پی ایس )امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد کینیڈا نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کینیڈا نے امریکی اشیا پر 50 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے نئے محصولات کے جواب میں اسی شرح سے اقدامات کیے جائیں گے۔کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے محصولات کا ایک ایک ڈالر کا حساب لیا جائے گا۔مارک کارنی کا کہنا تھا کہ تجارت کے معاملے پر امریکا کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں امریکا کی جانب سے شرائط تبدیل کرنا غیر منصفانہ اور ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے بہت زیادہ مطالبات کیے اور بدلے میں بہت کم پیشکش کی۔
مارک کارنی نے کہا کہ امریکا کے نئے محصولات کینیڈا کو نقصان پہنچانے کے لیے ہیں، تاہم کینیڈا اپنے قومی مفادات اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔کینیڈین وزیراعظم کے مطابق امریکی نئے محصولات میں شراب، فرنیچر، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، کپڑے، فشنگ راڈز اور ہاکی کا سامان سمیت تقریبا 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین برآمدات متاثر ہوں گی۔کینیڈا کی جانب سے امریکی اسٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو آلات، زرعی سامان، پلپ اینڈ پیپر اور الیکٹرانکس سمیت دیگر مصنوعات پر بھی جوابی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا آئندہ ہفتے ان صنعتوں کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کرے گا جو نئے امریکی محصولات سے متاثر ہوں گی، جبکہ یہ امداد کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔کینیڈین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ امریکا کی نئی شرائط میں کینیڈا کی نئے تجارتی معاہدے کرنے کی صلاحیت محدود کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ ان کے مطابق بڑی گاڑیوں کے معاملے پر بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلاف برقرار رہا، جس میں کینیڈا نے درمیانے اور بھاری ٹرکوں کے لیے بھی سازگار ٹیرف شرائط کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے مذاکرات کی ناکامی کو کینیڈا کے لیے امریکا کے ساتھ شراکت داری کا ایک ضائع ہونے والا موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی جانب سے جوابی اقدامات کے بعد امریکا بھی ان کے جواب میں اقدامات کرے گا۔کینیڈین چیمبر آف کامرس کی چیف ایگزیکٹو کینڈیس لائنگ نے کہا کہ کینیڈا کو مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے اور کاروباری اداروں کو اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔اونٹاریو کے وزیراعلی ڈگ فورڈ نے مارک کارنی کے جوابی ٹیرف کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ وزیراعظم نے معاہدے پر دستخط نہیں کیے، کیونکہ ان کے بقول یہ اونٹاریو، گاڑیوں، اسٹیل اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کے لیے برا معاہدہ تھا۔اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیور نے کہا کہ کینیڈین عوام کو ملک کے خلاف ان غیر منصفانہ حملوں سے روزگار اور کاروبار کے تحفظ کے لیے متحد رہنا چاہیے۔کینیڈا اپنے قومی مفادات اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
