اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کررہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بلوچستان پاکستان کا وہ علاقہ ہے جہاں دلیر بلوچ اور پشتون اقوام آباد ہیں۔ بلوچ اور پشتون قبائل کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی اور رواداری جیسی عظیم روایات سے عبارت ہے، جنہیں تاریخ نے اپنے اوراق میں شاندار انداز میں محفوظ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ قبائیل کی روایت ہے کہ جب عزت و وقار کا معاملہ سامنے آئے تو غیرت پکار پکار کر کہتی ہے کہ کسی بھی قیمت پر عزت و وقار پر سودا نہیں کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان نیشنل ورکشاپ کا مقصد سرکاری بات کرنا نہیں بلکہ عوام کی بات سننا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا اور اس وقت بلوچستان کے مختلف حصوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ، ثقافت اور روایات پاکستان کے قومی تشخص کا اہم حصہ ہیں، جبکہ بلوچ اور پشتون عوام کی جرات، مہمان نوازی اور رواداری قابل فخر روایات ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پرنسلی اسٹیٹس نے بھی 1948، 1947 کے بعد پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا، یہ کوئی بندوق کی نوک پر نہیں ہوا بلکہ دل، دماغ اور اس عزم کی بنیاد پر ہو اتھا کہ پاکستان کا حصہ بن کر پاکستان کی ترقی و خوشحال میں شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 1950، 1955 اور 1970میں بلوچستان میں جو واقعات ہوئے وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں، لیکن یہ بحث تاریخ کا حصہ رہے گی کہ ان واقعات کو ہمیں کس طور ہینڈل کرنا چاہیے تھا، کس طریقے سے ہمیں ان معاملات کو ڈائیلاگ کے ذریعے طے کرنا چاہیے تھا۔ بالآخر 1970میں پورا بلوچستان پاکستان کا حصہ بنا اور پاکستان کا چوتھا صوبہ کہلایا۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ وسائل رکھنے والا صوبہ ہے، پہاڑوں اور سمندر کی تہہ میں معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ، مہارت، وسائل اور وفاق و بلوچستان کے درمیان تعاون ضروری ہے۔بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کے حوالے سے کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ یہ دولت بلوچستان کے عوام کی ہے، چاہے اس کا تعلق مکران، لسبیلہ، چمن یا صوبے کے کسی بھی علاقے سے ہو۔ ان وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان وسائل کو درست طور پر استعمال نہ کیا جائے تو یہ دولت ہمیشہ کاغذوں میں ہی دولت کہلاتی رہے گی۔ معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے پہاڑوں اور سمندروں کی تہہ تک جانا ہوگا، جس کے لیے سرمایہ، مہارت اور وسائل درکار ہیں۔ وفاق اور بلوچستان کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ان وسائل سے حاصل ہونے والا فائدہ پہلے بلوچستان اور پھر پاکستان کے عوام تک پہنچ سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک سفر کے لیے ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم، اسپتالوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے لیے وسائل درکار ہیں اور یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کا طریقہ باہمی مشاورت اور دستیاب وسائل کی منصفانہ بنیادوں پر تقسیم ہے تاکہ تمام صوبے ان سے مستفید ہوسکیں۔ تاہم مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانا اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان میں کام کرنے والے مزدور، انجینئرز، اساتذہ اور دیگر افراد صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا خون پسینہ بہا رہے ہیں۔ جو لوگ پہاڑوں اور کانوں میں کام کرتے ہیں، ان کی محنت سے کوئلہ اور دیگر معدنیات نکلتی ہیں اور ملکی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان کے مطابق فتن الخوارج کو دشمن ممالک سے وسائل حاصل ہورہے ہیں اور وہ بے گناہ لوگوں کو شہید کررہے ہیں۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو یتیم کرنے والے یہ اہلکار ملک کے کروڑوں بچوں اور بچیوں کو محفوظ بنارہے ہیں، ہمیں ان کی عظیم قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے کراچی سے چمن تک شاہراہ کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے لیے وفاقی حکومت نے 415 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے چمن تک شاہراہ کو خونی سڑک سے امن کی سڑک میں تبدیل کرنے کے لیے منصوبے پر کام شروع ہوچکا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے ذریعے امن کو تباہ کیا جائے اور لوگوں کو بے گناہ قتل کیا جاتا رہے تو ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں ہوسکتے۔ ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے اور چاروں صوبے اس کے بچوں کی مانند ہیں، ریاست اپنے تمام شہریوں کی خوشحالی اور ترقی چاہتی ہے۔انہوں نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوچکا، اسے پیچھے چھوڑ کر آج بھی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے بامقصد اور کھلے انداز میں بات چیت کی جاسکتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر بلوچستان میں موجود ہمارے بیٹے، بیٹیاں اور بزرگ اپنا راستہ درست کرنے کے لیے تیار ہوں تو ہمیں انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مخلصانہ اور سنجیدہ مذاکرات سے مشکلات میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔گوادر بندرگاہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ پورے خطے کی شاندار بندرگاہوں میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے اسے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس کی گہرائی اتنی ہے کہ ایک لاکھ ٹن وزنی جہاز بھی یہاں لنگر انداز ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں نئے ہوائی اڈے سمیت بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی مکمل کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق سابق حکومت میں گوادر بندرگاہ کا آپریشن نہ ہونے کے برابر تھا، جس کے بعد انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے درآمد کیا جانے والا سرکاری سامان، بشمول گندم اور مشینری، بڑی مقدار میں گوادر بندرگاہ کے ذریعے ملک میں لایا جائے۔شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ان کی وابستگی محض رسمی نہیں بلکہ دل کی خواہش اور عزم ہے۔ جب تک بلوچستان پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح ترقی اور خوشحالی کے سفر میں شامل نہیں ہوگا، پاکستان حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کسی ایک صوبے کی ترقی کا نام نہیں، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں سے کسی ایک کی ترقی پاکستان کی مکمل ترقی نہیں ہوسکتی، پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تمام صوبے ترقی اور خوشحالی کے سفر میں شامل ہوں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہ کہ بلوچستان کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت تیار ہے، ترقی کے سفر میں تمام صوبوں کو برابر کا شریک ہونا چاہیے، کیونکہ کسی ایک صوبے کی ترقی پاکستان کی مکمل ترقی نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے کسانوں کے ٹیوب ویلوں کے بجلی کے اخراجات وفاق کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تقریبا 70 ارب روپے کا منصوبہ بنایا گیا، جس کے تحت 20 ہزار سے زائد ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے وزیراعلی نے منصوبے میں 30 فیصد حصہ ڈالنے کی پیشکش کی جبکہ وفاقی حکومت نے تقریبا 40 ارب روپے فراہم کیے۔ وزیراعظم کے مطابق اب بلوچستان میں 20 ہزار سے زائد ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل ہوچکے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن کے معاملے میں بلوچستان نے وفاق سے اپنی فنڈنگ میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔ چاروں صوبوں، خصوصا پنجاب نے اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا اور پنجاب نے بلوچستان کے لیے سالانہ 11 ارب روپے کا حصہ دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب اور بلوچستان سمیت تمام صوبے ایک ہی گھر کے افراد ہیں، مشکلات، خوشی اور غم میں سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی مختلف تعلیمی اسکیموں میں بلوچستان کا حصہ آبادی کے تناسب سے 10 فیصد زیادہ رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لیپ ٹاپ، تعلیمی وظائف، دانش اسکولوں میں داخلوں اور دیگر پروگراموں میں بلوچستان کے طلبہ کو خصوصی حصہ دیا گیا ہے۔ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ بھائی چارے اور قومی یکجہتی کا تقاضا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر چاروں صوبے ترقی کے سفر میں برابر کے شریک نہیں ہوں گے تو وہ پاکستان کی حقیقی ترقی نہیں ہوگی۔ انہوں نے علامہ اقبال کے شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرد قوم سے جڑا ہو تو مضبوط ہوتا ہے اور پاکستان کی مضبوطی بھی اسی اتحاد میں ہے۔کراچی سے چمن تک شاہراہ کے منصوبے کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے 100 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید 100 ارب روپے بھی فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود اگر دہشت گردی کے باعث سڑک پر کام نہ ہوسکے تو ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں ہوسکتا۔شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے نو اضلاع میں دانش اسکولوں کی تعمیر شروع ہوچکی ہے، جن پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ ان اسکولوں میں جدید تعلیم، رہائش، کھانے، سمارٹ بورڈز، آئی ٹی لیبارٹریز اور بہترین تدریسی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ دانش اسکول کا بنیادی مقصد غریب اور یتیم بچوں کو معیاری تعلیم کے وہ مواقع فراہم کرنا ہے جو عام طور پر اشرافیہ کے بچوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے بچوں کو بھی بہترین تعلیم کا حق حاصل ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں بلوچستان کے منصوبوں کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پنجاب کے لیے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کے منصوبوں کو ترقیاتی پروگرام میں کتنی ترجیح دی گئی ہے۔شہباز شریف نے بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں کوئٹہ اور گوادر کے درمیان تقریبا 650 کلومیٹر طویل شاہراہ تین سال میں تعمیر کی گئی۔ اس سڑک کی تعمیر کے دوران فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے 43 اہلکاروں نے شہادت پائی۔وزیراعظم نے کہا کہ آج اس شاہراہ کی تعمیر سے گوادر، تربت، پنجگور اور کوئٹہ سمیت پورے خطے کی معیشت اور عوامی رابطوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی پاکستان کی مجموعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے جغرافیائی محل وقوع کا تقاضا ہے کہ وہاں زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ فاصلے کم ہوں اور بنیادی سہولیات پہنچائی جاسکیں، تاہم دہشت گردی ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے باعث امن قائم نہ ہو تو دانش اسکول بن سکیں گے، نہ خونی سڑک امن کی سڑک میں تبدیل ہوسکے گی اور نہ ہی مزید بڑے ترقیاتی منصوبے، جامعات اور تعلیمی سہولیات قائم کی جاسکیں گی۔ اس مسئلے کا جواب صرف بلوچستان نہیں بلکہ ہم سب کو مل کر دینا ہے اور اس کے لیے پرامن مکالمہ ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں نوجوانوں کے لیے اطلاعاتی ٹیکنالوجی کا شعبہ غیر معمولی مواقع رکھتا ہے۔ اس شعبے میں برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور نوجوان نسل پاکستان کی معیشت کو تیزی سے آگے لے جاسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چاول کی برآمدات میں کمی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے برآمدی ترقیاتی فنڈ سے تقریبا 11 سے 12 ارب روپے فراہم کیے گئے تاکہ عالمی منڈی میں پاکستانی چاول کو مسابقتی بنایا جاسکے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے نتیجے میں گزشتہ سال ایک مخصوص شے کی مد میں 125 ارب روپے قومی خزانے میں آئے۔ ان کے مطابق یہ کسی جادو کا نتیجہ نہیں بلکہ حکومتی عزم، شراکت داری اور بہتر انتظامی اقدامات کا نتیجہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر مکران کے ساحلوں سے پنجاب کے میدانوں اور خیبر پختونخوا کے پہاڑوں تک سب مل کر کام کریں تو چند سالوں میں خوشحالی کا انقلاب آسکتا ہے۔انہوں نے بلوچستان سے پنجاب کو ملانے والی شاہراہ کے منصوبے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ راستہ دیگر قومی شاہراہوں کے مقابلے میں مختصر اور محفوظ ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور افواج پاکستان نے مل کر بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں انجام دیں۔ متاثرین کو خوراک، خیمے، کمبل اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے منصوبے حکومت کا احسان نہیں بلکہ فرض ہیں، تاہم ان منصوبوں کی حفاظت اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھانا بھی مقامی آبادی کی ذمہ داری ہے۔
بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے،فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کررہا ہے، وزیراعظم
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
