اسلام آباد: اسلام آباد میں آسیان کمیٹی نے آسیان کے قیام کی 59ویں سالگرہ کے موقع پر اسلام آباد میریٹ ہوٹل میں پروقار استقبالیہ کا اہتمام کیا، جس میں حکومت پاکستان کے نمائندوں، سفارتی برادری، عالمی اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی اور پاکستان میں آسیان کے دوستوں نے شرکت کی۔
آسیان کمیٹی اسلام آباد میں برونائی دارالسلام، انڈونیشیا، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنام کے سفارتی مشنز شامل ہیں۔
تقریب کا انعقاد آسیان کی 2026 کی چیئرمین شپ کے موضوع ’’Navigating Our Future, Together‘‘ کے تحت کیا گیا۔ اس موقع پر آسیان کے سفیر اور کمیٹی کے چیئرمین، فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ مختلف ثقافتوں، زبانوں، مذاہب اور سیاسی نظام کے باوجود آسیان نے امن، مکالمے اور تعاون کی مضبوط روایت قائم کی ہے۔
انہوں نے آسیان کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت اور عالمی شراکت داری کے وسیع امکانات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ نوجوان، تعلیم یافتہ، تخلیقی اور ڈیجیٹل طور پر منسلک آبادی آسیان کی نمایاں طاقت ہے۔
وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے تقریب میں شرکت کی اور حکومت و عوام پاکستان کی جانب سے آسیان کے رکن ممالک کی حکومتوں اور عوام کو مبارکباد پیش کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تقریباً چھ دہائیوں میں آسیان 70 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل ایک متحرک اور بتدریج مربوط علاقائی برادری بن چکا ہے، جبکہ اس کی مجموعی معیشت تقریباً 4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور آسیان کے درمیان دیرینہ روابط کا ذکر کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مزید تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔
تقریب میں آسیان کے رکن ممالک کی ثقافتی نمائش بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ اسلام آباد میں موجود تمام آسیان مشنز نے اپنے اپنے ممالک کے روایتی فنون، دستکاری، مصنوعات، قومی علامات اور ثقافتی ورثے پر مشتمل خصوصی بوتھ قائم کیے۔
آسیان فوڈ اسٹیشن میں مختلف رکن ممالک کے روایتی اور خصوصی کھانوں نے تقریب کو ایک چھوٹے فوڈ فیسٹیول میں تبدیل کر دیا، جہاں مہمانوں نے جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ خطے کی منفرد غذائی روایات سے بھی آگاہی حاصل کی۔
تقریب کے ثقافتی پروگرام میں جنوب مشرقی ایشیا کی مختلف روایات کی نمائندگی کرنے والے فنکارانہ مظاہرے بھی پیش کیے گئے، جن میں روایتی رقص، مارشل آرٹس اور عصری و تخلیقی پرفارمنسز شامل تھیں۔
تقریب کے شرکاء نے اس امر کو اجاگر کیا کہ آسیان کا ثقافتی تنوع نہ صرف خطے کی شناخت ہے بلکہ مختلف اقوام کے درمیان روابط، باہمی افہام و تفہیم اور دوستی کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔
آسیان کمیٹی اسلام آباد نے تقریب میں شرکت اور تعاون پر حکومت و عوام پاکستان، معزز مہمانوں، شراکت داروں اور آسیان کے دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔
59ویں آسیان ڈے کی تقریب نے اس عزم کو اجاگر کیا کہ مختلف پس منظر رکھنے والی آسیان ریاستیں مشترکہ مفادات اور باہمی تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھنے اور دنیا بھر کے شراکت داروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
