اسلام آباد(سب نیوز) تیونس کی ناظم الامور محترمہ دورصاف معروفی نے کہا ہے کہ پاکستان اور تیونس کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اصولی خارجہ پالیسی اور مظلوم اقوام کی حمایت کو تیونس میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں اپنے اعزاز میں منعقدہ الوداعی استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں روانڈا کی ہائی کمشنر ہز ایکسی لینسی ہریریمانا فاتو، زمبابوے کے سفیر ہز ایکسی لینسی ٹائٹس ایم۔ جے۔ ابو باسوتو، جنوبی افریقہ کے قائم مقام ہائی کمشنر ہز ایکسی لینسی روڈولف پیئر جورڈن، آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔محترمہ دورصاف معروفی نے کہا کہ پاکستان اور تیونس کو اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اور دوطرفہ تجارت میں اضافے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں تیونس کے مقف کی حمایت پر پاکستان کو سراہا۔انہوں نے 2025 میں آئی سی سی آئی کے ایک بڑے کاروباری وفد کے دور تیونس کا بھی ذکر کیا، جس نے انٹرنیشنل کافی فیسٹیول میں شرکت کی اور مختلف چیمبرز آف کامرس کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے۔
انہوں نے اس دورے کو دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے جانشین کے دور میں بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔محترمہ دورصاف معروفی نے کہا کہ پاکستان ان کی پہلی سفارتی تعیناتی کے دوران ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ جسمانی طور پر پاکستان سے جا رہی ہیں، لیکن یہ ملک ہمیشہ ان کے دل اور یادوں میں زندہ رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تیونس واپس جانے کے بعد بھی وہ پاکستان اور تیونس کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔سیکرٹری جنرل یونائیٹڈ بزنس گروپ ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان اور تیونس کے تعلقات گہرے، برادرانہ اور دیرینہ ہیں، تاہم دونوں ممالک کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو ان کے مضبوط سیاسی اور سفارتی تعلقات کے ہم پلہ لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تیونس کے تعلقات تاریخی اور گہری بنیادوں پر قائم ہیں اور ان کی بنیاد تیونس کی آزادی سے بھی پہلے پڑ چکی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1951 میں تیونس کی فرانسیسی نوآبادیاتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کے دوران حبیب بورقیبہ، جو بعد میں آزاد تیونس کے پہلے صدر بنے، بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی مہم کے سلسلے میں کراچی آئے تھے۔ پاکستان نے تیونس کی حقِ خودارادیت اور آزادی کی جدوجہد کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایسی دوستی کی بنیاد پڑی جو تیونس کی 1956 کی آزادی اور رسمی سفارتی تعلقات کے قیام سے بھی پہلے کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تاریخی ورثے کو اب دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور عوامی روابط کے مزید مضبوط فروغ میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔محترمہ دورصاف معروفی کی اسلام آباد میں پانچ سالہ سفارتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ظفر بختاوری نے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور تیونس کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں قابلِ قدر کردار ادا کیا اور تیونسی سفارتخانے اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان گرمجوش اور مضبوط روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ظفر بختاوری نے کہا کہ محترمہ معروفی کی موجودگی نے اسلام آباد کی سفارتی برادری میں خصوصی گرمجوشی پیدا کی اور ان کی خدمات کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری اور بزنس ٹو بزنس روابط کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہتر رابطہ کاری اقتصادی تعاون کے لیے بڑے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ تیونس واپس جانے کے بعد بھی محترمہ دورصاف معروفی پاکستان اور تیونس کی دوستی کی خیرسگالی سفیر کے طور پر اپنا کردار جاری رکھیں گی اور دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔قائم مقام صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عرفان چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو افریقی ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مضبوط تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کے ساتھ قریبی اقتصادی روابط پاکستانی کاروباری برادری کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور ملکی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے پاکستان اور تیونس کے تعلقات کے فروغ کے لیے محترمہ دورصاف معروفی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور تعاون بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔جماعتِ اسلامی پاکستان کے ڈائریکٹر فارن افیئرز آصف لقمان قاضی نے اسلامی تہذیب، تعلیم، ثقافت اور فکری ترقی میں تیونس کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیونس تاریخی طور پر علم و دانش کا مرکز رہا ہے اور عرب بہار کا آغاز بھی اسی ملک سے ہوا۔انہوں نے پاکستان اور تیونس کی قریبی دوستی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور تیونس کے دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے محترمہ دورصاف معروفی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
