ہومآزاد کشمیرحلقہ تین پونچھ، کھائی گلہ میں سیاسی تبدیلی کی دستک

حلقہ تین پونچھ، کھائی گلہ میں سیاسی تبدیلی کی دستک

ڈاکٹر عرفان اشرف کی ممکنہ کامیابی نظریۂ پاکستان کے علمبرداروں کے لیے بڑی نوید ثابت ہو گی

حلقہ تین پونچھ، کھائی گلہ کا سیاسی میدان اس وقت غیر معمولی سیاسی سرگرمیوں کی زد میں ہے۔ انتخابی معرکہ جوں جوں قریب آ رہا ہے، سیاسی صف بندی بھی واضح ہوتی جا رہی ہے اور حلقے کے عوام میں اس سوال پر بحث جاری ہے کہ آیا روایتی سیاست ایک مرتبہ پھر اپنی جگہ برقرار رکھے گی یا اس بار کوئی نئی سیاسی قوت تاریخ رقم کرے گی حلقہ تین میں ایک طرف طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب سردار عبدالرشید مسلم لیگ کے امیدوار کے طور پر مقابلے میں ہیں۔ ان دونوں شخصیات میں سےسردار یعقوب پر چالیس سال طویل اقتدار کے دوران کریشن بدعنوانی عوامی وسائل کی لوٹ مار سے المکہ ہاوسنگ سوسائٹی جیسی کھریوں روپوں مالیت کی جائیدادیں بنانے کا الزام ہے جبکہ حاجی رشید ایک ناتجربہ کار غیر فعال اور عمر رسیدہ شخص ہیں جو حلقے کی نمائندگی سے قاصر ہیں ۔
ڈاکٹر عرفان اشرف کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ محض انتخابی موسم میں عوام کے درمیان نظر آنے کے بجائے حلقے کے عوام کے ساتھ مسلسل رابطے اور خدمت کے حوالے سے اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ان کے حامیوں کے مطابق ڈاکٹر عرفان اشرف نے اپنی استطاعت کے مطابق حلقے میں اپنی مدد آپ کے تحت متعدد فلاحی، سماجی اور عوامی نوعیت کے کام کیے ہیں اور مشکل حالات میں لوگوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں
یہی وجہ ہے کہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عرفان اشرف کی سیاست کا بنیادی محور اقتدار نہیں بلکہ خدمت اور عوامی رابطہ ہے۔ ان کے نزدیک سیاست کا مقصد صرف اسمبلی کی نشست حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور علاقے کی محرومیوں کو متعلقہ فورمز تک پہنچانا بھی ہے ڈاکٹر عرفان اشرف کے سیاسی سفر میں سب سے زیادہ جس پہلو کو ان کے حامی نمایاں کرتے ہیں وہ اپنی مدد آپ کے تحت عوامی خدمت ہےحلقے کے مختلف علاقوں میں بنیادی ضروریات، عوامی مسائل اور مقامی سطح پر درپیش مشکلات کے حوالے سے ان کی سرگرمیوں کو ان کے سیاسی حامی ایک مثبت پہلو قرار دیتے ہیں۔
عوام کا کہنا ہے کہ محدود زاتی وسائل کے باوجود ڈاکٹر عرفان اشرف نے جہاں ممکن ہوا، لوگوں کی مدد کی، ان کے مسائل سنے اور متعلقہ اداروں تک ان کی آواز پہنچانے کی کوشش کی۔ یہی طرزِ سیاست اب انتخابی مہم میں بھی ان کے لیے ایک اہم سیاسی سرمایہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔حلقے کے بعض عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ موجودہ انتخاب محض امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ سیاسی طرزِ فکر کے درمیان مقابلہ بھی بن چکا ہے۔ ایک طرف سردار یعقوب جیسا کرپٹ سیاستدان ہے اور دوسری جانب نئی توانائی، عوامی رابطہ اور نظریاتی سیاست ہے ڈاکٹر عرفان اشرف نظریۂ پاکستان کے داعی اور مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ ان کے حامیوں کے مطابق نظریاتی سیاست سے وابستگی ان کی سیاسی شناخت کا اہم حصہ ہے۔
مسلم کانفرنس کی تاریخی سیاسی شناخت اور نظریۂ پاکستان سے وابستگی کے تناظر میں ڈاکٹر عرفان اشرف کی انتخابی مہم کو ان کے حامی ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر عرفان اشرف کامیاب ہوتے ہیں تو یہ حلقہ تین پونچھ میں نظریاتی سیاست کے لیے ایک مضبوط پیغام ثابت ہو گا ۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عرفان اشرف کی ممکنہ کامیابی کو ان کے حامی صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں سمجھتے بلکہ اسے نظریۂ پاکستان کےعلمبرداروں کے لیے ایک بڑی نوید قرار دے رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔