اسلام آباد: ڈونگ گوان گانژو چیمبر آف کامرس کے صدر اور ڈونگ گوان چوانبو میٹل پراڈکٹس کمپنی لمیٹڈ کے چیئرمین لیو ینگ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے چینی کاروباری وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، صنعتی تعاون، مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، تعمیرات، نئی توانائی، جدید میٹریلز اور برآمدی پیداوار کے شعبوں میں وسیع امکانات کا جائزہ لیا۔ وفد کے دورے کو پاکستان اور چین کے درمیان روایتی دوستی کو عملی اقتصادی شراکت داری، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے روابط میں تبدیل کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) میں منعقدہ کاروباری نشست کے دوران ڈونگ گوان چوانبو میٹل پراڈکٹس کمپنی لمیٹڈ کے حوالے سے ایک تفصیلی پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی، جس میں کمپنی کے کاروباری پروفائل، مصنوعات، مینوفیکچرنگ صلاحیتوں اور پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ ممکنہ تعاون کے شعبوں کو اجاگر کیا گیا۔ پریزنٹیشن کے ذریعے پاکستانی کاروباری برادری کو چینی کمپنی کی استعداد اور پاکستان میں کاروباری تعاون کے امکانات سے آگاہ کیا گیا۔
اس موقع پر لیو ینگ نے کہا کہ چینی وفد پاکستان میں عملی کاروباری مواقع تلاش کرنے اور پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری قائم کرنے کے مضبوط عزم کے ساتھ آیا ہے۔ انہوں نے نجی شعبے کے باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وفد کا دورہ سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی شراکت داری کے ٹھوس منصوبوں کی بنیاد بنے گا۔
چینی وفد میں دھات اور پلاسٹک مصنوعات، تعمیرات، نئی توانائی، جدید میٹریلز، فلورنگ سلوشنز، پیکیجنگ، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں کے نمائندگان شامل تھے، جس سے پاکستان اور چین کے نجی شعبوں کے درمیان B2B تعاون، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات سامنے آئے۔
آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ چینی وفد کا دورہ پاکستان اور چین کی روایتی دوستی کو سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ اقتصادی قدر پیدا کرنے والی مضبوط شراکت داری میں تبدیل کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بڑی مارکیٹ، نوجوان آبادی، باصلاحیت کاروباری طبقے، اہم جغرافیائی محل وقوع اور انفراسٹرکچر، توانائی، مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں وسیع مواقع رکھتا ہے۔
انہوں نے چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ یونٹس کے قیام، مشترکہ منصوبوں اور مربوط سپلائی چینز کی تشکیل کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی تعاون کو محض روایتی تجارت تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، تعمیرات، قابلِ تجدید توانائی، صنعتی مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ، جدید میٹریلز، پیکیجنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری اور مہارت پاکستان کی صنعتی ترقی کو تیز کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ چینی کمپنیاں پاکستان کو خطے کی بڑی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں، جبکہ پاکستانی کاروباری ادارے چینی ٹیکنالوجی، سرمایہ، مینوفیکچرنگ کی مہارت اور عالمی سپلائی چین نیٹ ورکس سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی اور پاکستان کی کاروباری برادری چینی سرمایہ کاروں کے لیے B2B ملاقاتوں، سرمایہ کاری میچ میکنگ، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی پارٹنرشپس اور مارکیٹ ایکسس کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں صرف ایک دوسرے کے ساتھ تجارت نہیں کرنی، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعمیر، سرمایہ کاری، جدت اور ترقی کرنی ہے۔”
آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ چیمبر دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتا رہے گا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے چینی کاروباری اداروں کے ساتھ روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ اس موقع پر آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، ذوالقرنین عباسی، مرزا محمد علی، عمران منہاس، نجیب الٰہی ملک، ملک محسن خالد، آئی سی سی آئی کے سینئر ممبر یاسر جاوید اور دیگر اراکین بھی موجود تھے۔
