اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد نے بین الاقوامی شہرت یافتہ مبلغ، بین المذاہب ہم آہنگی سکالر ڈاکٹر لیف ہیٹ لینڈ کے ہمراہ ملاقات کی، ملاقات میں قومی و بین الاقوامی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری کے فروغ اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان ملک میں مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو بلا تفریقِ مذہب و عقیدہ مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اور ہمیں معاشرے میں امن و محبت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے وزارت کی جانب سے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اہم اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ مذہبی امور نے قومی سطح پر ‘بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹیاں’ فعال کی ہیں جو ضلعی و صوبائی سطح پر تمام مذاہب کے علما کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کے مذہبی تہواروں کو سرکاری سطح پر منانے، اقلیتی برادری کے عباد گاہوں کی تحفظ و تزئین و آرائش، اقلیتی طلبہ کے لیے خصوصی وظائف اور “پیغامِ پاکستان” بیانیے کی ترویج جیسے اہم ترین اقدامات شامل ہیں تاکہ نفرت انگیز مواد اور فرقہ واریت کا موثر سدِباب کیا جا سکے۔
چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے اس موقع پر کہا کہ اسلام کا بنیادی پیغام امن، سلامتی، اور انسانیت سے محبت کا ہے، علما کرام اور دینی راہنماں کا یہ دینی و قومی فریضہ ہے کہ وہ معاشرے میں شدت پسندی اور نفرت کے خاتمے کے لیے آگے آئیں اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔بین الاقوامی بین المذاھب ہم آہنگی سکالر ڈاکٹر لیف ہیٹ لینڈ نے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمگیر سطح پر پرامن بقائے باہمی کے لیے باہمی گفتگو، احترام اور غیر مشروط محبت کی اشد ضرورت ہے۔ ملاقات میں بین المذاہب رواداری کے فروغ کے لیے مشترکہ پروگرامز اور ورکشاپس کے انعقاد پر اتفاق کیا۔
