ہومپاکستانحکومت میں ہوں تو فوج کیساتھ، اقتدار سے باہر ہوں تو تنقید، یہ رویہ بدلنا ہوگا، ملک احمد خان

حکومت میں ہوں تو فوج کیساتھ، اقتدار سے باہر ہوں تو تنقید، یہ رویہ بدلنا ہوگا، ملک احمد خان

لاہور (سب نیوز)اسپیکر پنجاب اسمبلی اور قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ معاشرے میں یہ تاثر قائم ہوگیا ہے کہ جو شخص فوج پر تنقید کریگا وہ مقبول ہو جائیگا، جبکہ یہ رویہ بھی اختیار کر لیا گیا ہے کہ جب اقتدار ملے تو فوج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور جب اقتدار سے باہر نکلیں تو اسی ادارے پر تنقید شروع کر دیں، حالانکہ اس طرز عمل سے گریز کرنا چاہیے۔یونیورسٹی آف لاہور کے زیر اہتمام گورننس، لیکن نظام کیا؟ کے موضوع پر خصوصی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گورننس ایسا موضوع ہے جس پر روزانہ بات ہونی چاہیے، کیونکہ ملک کو درپیش بیشتر مسائل کا تعلق موثر نظامِ حکمرانی سے ہے۔ملک محمد احمد خان نے کہاکہ اگر ملک میں بہتر نظام قائم کرنا ہے تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو زیادہ اختیارات اور طاقت دینا ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ ایک شہری کے طور پر ریاست کے ساتھ ان کا معاہدہ ہے کہ انہیں اس نظام میں حقیقی معنوں میں حصہ دار بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ ان کے اپنے دیہات میں آج بھی سول سروسز موجود نہیں ہیں، جبکہ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ دیہات کے لوگ میونسپل ٹیکس ادا نہیں کرتے، اس لیے انہیں میونسپل سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔ ان کے بقول ان کے علاقے کے دیہات میں آج بھی میونسپل کارپوریشن کا نظام موجود نہیں۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہاکہ جمہوریت کا اصل ثمر عوام کو بہتر طرزِ زندگی فراہم کرنا ہے۔ اگر لوگوں کو اچھی زندگی، صحت، صفائی اور روزمرہ کی بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو پھر وہ جمہوریت کو کیوں پسند کریں گے۔انہوں نے کہاکہ وہ ایک عوامی نمائندے کی حیثیت سے چاہتے ہیں کہ عوام کو بنیادی سہولیات اور ان کے حقوق فراہم کیے جائیں اور سب سے پہلے عوام کے حقوق پورے کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ ایگزیکٹو اتھارٹی منتخب نمائندوں کے پاس ہوگی، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنے برس گزرنے کے باوجود آئین کی روح کے مطابق اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو سکا۔ان کا کہنا تھا کہ فوج کے سیاسی کردار پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، لیکن اس سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ملک کا سیاسی نظام کس انداز میں چلنا چاہیے۔ جب منتخب سیاسی نمائندے مضبوط ہوں گے تو گورننس کا نظام بھی مضبوط ہوگا۔

ملک محمد احمد خان نے کہاکہ فوجی آمروں نے اپنے مارشل لاز کو جائز ثابت کرنے کے لیے مختلف توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم اصل ضرورت مضبوط جمہوری اداروں اور موثر نظام حکمرانی کی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 25 کروڑ عوام کے نظام کو چلانے کے لیے صرف 1500 ارکان اسمبلی کافی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو اس وقت مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے سب کو مل کر فیصلے کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ سیمینار میں لوکل گورنمنٹ کے نظام پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اگر کسی نے مزید صوبے بنانے کی تجویز دی ہے تو اس پر بھی سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ گورننس کو بہتر بنانے کے لیے کھلے دل سے مکالمہ ضروری ہے اور لوگوں کی تجاویز کو بھی سنا جانا چاہیے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہاکہ جب لوگ اس نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں تو انہیں سب کچھ اچھا دکھائی دیتا ہے، لیکن جیسے ہی حکومت سے باہر ہوتے ہیں تو یہی نظام برا لگنے لگتا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج سیاسی ڈائیلاگ کو برداشت کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے، حالانکہ قومی مسائل کا حل صرف مکالمے، اتفاق رائے اور مضبوط جمہوری نظام میں ہی پوشیدہ ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔