ہومپاکستانسیاسی استحکام لانے کیلئے قومی مکالمہ ناگزیر ہو چکا ، اس عمل میں تمام فریقین کو شامل کیا جانا چاہیے،فواد چودھری

سیاسی استحکام لانے کیلئے قومی مکالمہ ناگزیر ہو چکا ، اس عمل میں تمام فریقین کو شامل کیا جانا چاہیے،فواد چودھری

لاہور(سب نیوز)سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے قومی مکالمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس عمل میں تمام سیاسی جماعتوں، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ فریقوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔
لاہور پریس کلب میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماں وسیم اختر، عمران اسماعیل، منیر احمد خان اور مولوی محمود کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام پر بھی قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے کیونکہ موجودہ طرزِ حکمرانی عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔کمیٹی کے قیام کا مقصد قومی مکالمے کے ذریعے ملکی سیاست میں ٹھہرا اور استحکام پیدا کرنا ہے۔ جمہوریت ڈائیلاگ کے بغیر نہیں چل سکتی اور تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث دوبارہ شروع ہو چکی ہے اس لیے اس معاملے پر کھلے دل سے گفتگو کی ضرورت ہے۔ وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم کے لیے نئے صوبوں کا قیام ایک اہم آپشن ہو سکتا ہے۔
فواد چودھری نے وزیر داخلہ کے سسٹم بیٹھ گیا ہے والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ اگر واقعی نظام اس نہج پر پہنچ چکا ہے تو پھر تمام فریقوں سے بات چیت کرنا ہوگی۔جس میں عوام کی حقیقی شمولیت نہ ہو وہ نظام کامیاب نہیں ہو سکتا اس لیے سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت سے کوئی قابل قبول راستہ نکالنا چاہیے۔ موجودہ گورننس کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس سے عام شہری کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
سابق وفاقی وزیر نے دعوی کیا کہ صوبوں میں تمام اختیارات وزیر اعلی کے پاس مرکوز ہیں جبکہ وزرا بھی عملا بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں عوامی وسائل کے استعمال پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں اور اس حوالے سے شفاف احتساب کی ضرورت ہے۔کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں بنیادی طبی سہولت، مثلا ایم آر آئی مشین تک دستیاب نہیں، جو وسائل کی غیر مساوی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام سے وسائل اور اختیارات کی بہتر تقسیم ممکن ہو سکے گی۔صرف بلدیاتی انتخابات مسائل کا مکمل حل نہیں بلکہ گورننس کے پورے ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی ترقی اور بہتر انتظامی نظام کی بنیاد نئے صوبوں کے قیام میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کے معاملے پر قومی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا جائے جس میں تمام سیاسی جماعتیں شریک ہوں۔ اگر ملک میں حقیقی اصلاحات مقصود ہیں تو پاکستان تحریک انصاف کو نظر انداز کرکے یہ عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔قومی مکالمے کے نتیجے میں ایک ایسی قومی حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے جو تمام سیاسی قوتوں کی نمائندگی کرے اور نئے صوبوں سمیت اہم آئینی و انتظامی اصلاحات پر پیش رفت کرے۔ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔