نیویارک (آئی پی ایس) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو ایران پر تازہ حملوں کا حکم دے دیا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ممکنہ حملے ہفتے کے آخر میں شروع ہو سکتے ہیں، جن میں ایران کے بجلی گھروں، آئل ریفائنریز سمیت توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملوں کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، ایران پر حملے امریکا اور اسرائیل مشترکہ طور پر کریں گے۔
علاوہ ازیں کابینہ میٹنگ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر بھرپور فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ایران پر بھرپور حملوں سے قدامت پسند بتدریج کمزور ہوں گے، ایران پر حملوں کا مقصد ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیل کا اعتماد کمزور پڑ رہا ہے، ایرانی جھوٹ بولتے اور وعدوں سے پھر جاتے ہیں، امریکا صرف فتح چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی حملوں میں ایران کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام تقریباً تباہ ہو چکے ہیں، ایران کو جوہری ہتھیار نہیں حاصل کرنے دیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو پورا مشرقِ وسطیٰ تباہ ہو چکا ہوتا، ایران پر سخت حملے کریں گے، ایک وقت آئے گا وہ خود بولیں گے کہ اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ ایران کے پاس پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔
دوسری جانب امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون نے ایران پر ممکنہ حملوں پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے سے پہلے اہداف پر بات نہیں کریں گے، صدر کی ہدایات پر کسی بھی وقت کارروائی کیلئے تیار ہیں۔
