اسلام آباد (سب نیوز): پاکستان میں مراکش کے سفارتخانے کے زیر اہتمام شاہ محمد ششم کی تخت نشینی کی 27ویں سالگرہ کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مراکش کی ترقی اور پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مراکش کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید مضبوط ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان اور مراکش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
مراکش کے سفیر محمد کرمون نے اپنے خطاب میں شاہ محمد ششم کی قیادت میں گزشتہ 27 برسوں کے دوران مراکش کی نمایاں ترقی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں جمہوری ادارے مضبوط ہوئے، ملکی جی ڈی پی تین گنا ہوئی جبکہ سماجی تحفظ کی پالیسیوں کے نتیجے میں صحت اور دیگر سماجی خدمات تک عوام کی رسائی میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مراکش میں امن و استحکام اور ریاستی اداروں کی مؤثر کارکردگی نے ملک میں اقتصادی ترقی کی بنیاد مضبوط کی ہے۔
سفیر نے کہا کہ مراکش صنعت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر چکا ہے اور افریقہ میں گاڑیوں کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا ہے، جہاں سالانہ تقریباً 10 لاکھ گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہوا بازی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
محمد کرمون کے مطابق 2025 میں مراکش نے ریکارڈ 2 کروڑ سیاحوں کا خیرمقدم کیا، جن میں بیرون ملک مقیم مراکشی شہری بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں مستقبل پر مرکوز واضح تزویراتی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔
مراکش کے سفیر نے پاکستان اور مراکش کے درمیان 72 سال سے زائد عرصے پر محیط تاریخی تعلقات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باقاعدہ سیاسی رابطے، اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے اور عالمی اداروں میں باہمی تعاون دونوں ممالک کی مضبوط شراکت داری کا ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ کوششوں سے دونوں ممالک اپنے مشترکہ ترقیاتی وژن کو عملی شکل دے سکتے ہیں اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں۔
تقریب میں مختلف ممالک کے سفیروں اور ہائی کمشنرز، دیگر سفارتی شخصیات، پاکستانی سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
