اسلام آباد(سب نیوز) وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، جبکہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(آئی سی سی آئی)کی جانب سے 13 اگست 2026 کو استنبول میں منعقد ہونے والی بزنس آپرچیونٹی کانفرنس اینڈ گلوبل ایکسیلینس ایوارڈز وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ وژن کی عملی تعبیر کی جانب ایک بروقت اور موثر قدم ہے۔
منگل کے روز آئی سی سی آئی میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کا دوسرا گھر ہے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی، سیاسی اور عوامی تعلقات کو اب مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز)، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مثر بزنس ٹو بزنس روابط کے ذریعے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پاکستانی کاروباری وفد کی قیادت کرتے ہوئے ترکیہ جائیں گے اور ترک سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتوں کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاسی اور معاشی استحکام کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر ملک پر اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح نجی شعبے کو بااختیار بنانا، صنعتی ترقی کو تیز کرنا اور پاکستان کو ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے، غیر ضروری ضوابط میں کمی، ٹیرف اصلاحات اور صنعتی مسابقت کو فروغ دینے کے لیے جامع اصلاحات پر تیزی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ حکومت نئی صنعتی، آٹو اور الیکٹرک وہیکل پالیسیوں پر عملدرآمد کر رہی ہے جبکہ قابلِ تجدید توانائی، بیٹری مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس اور فارماسیوٹیکل صنعت میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور برآمد کنندگان کو آسان مالی سہولتوں، ایکسپورٹ ری فنانسنگ، طویل المدتی فنانسنگ اور ٹیکس مراعات کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو۔اس موقع پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے ہارون اختر خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بھرپور سرپرستی اور تعاون نے نجی شعبے کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی کی بزنس آپرچیونٹی کانفرنس اینڈ گلوبل ایکسیلینس ایوارڈز کا مقصد پاکستان کی معاشی صلاحیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، اعلی سطحی بی 2 بی ملاقاتوں کا انعقاد، سرمایہ کاری کو فروغ دینا، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں رئیل اسٹیٹ، تعمیرات، صحت، فارماسیوٹیکل، آئی ٹی، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، سیاحت، انجینئرنگ اور لاجسٹکس سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے امکانات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی پاکستان کو ایک پرامن، قابلِ اعتماد اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں ملک کے طور پر عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے معاشی سفارت کاری کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ استنبول میں منعقد ہونے والی کانفرنس پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے مشترکہ ہدف کے حصول میں سنگِ میل ثابت ہوگی اور دونوں برادر ممالک کے درمیان معاشی تعاون کا ایک نیا باب کھولے گی۔اس موقع پر اسلام آباد میں جمہوریہ ترکیہ کے سفارت خانے کے کمرشل کونسلر انس ملک سٹین نے آئی سی سی آئی کی قیادت کو اس اہم اقدام پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ دورہ انتہائی کامیاب ثابت ہوگا اور منظم بی 2بی ملاقاتیں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مزید وسعت دیں گی۔پریس کانفرنس میں آئی سی سی آئی کے فانڈر گروپ کے چیئرمین شیخ طارق صادق، سینئر نائب صدر طاہر ایوب، نائب صدر محمد عرفان چوہدری، سابق صدور زبیر احمد ملک، محمد اعجاز عباسی، خالد جاوید، شیخ عامر وحید، ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، عمران منہاس، وسیم چوہدری، مرزا محمد علی، روحیل انور بٹ، آفتاب گجر، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، آئی سی سی آئی کے رکن اسرار مشوانی سمیت اسلام آباد کی مختلف مارکیٹوں سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنماوں اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔
پاکستان ترکیہ برادرانہ تعلقات کو معاشی خوشحالی میں بدلنے کا وقت آ گیا ہے، ہارون اختر خان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
