ہومتازہ ترینآئی سی سی آئی کے زیر اہتمام "لائیوسٹاک اور میٹ بزنس کا مستقبل" پر آگاہی سیمینار کا انعقاد

آئی سی سی آئی کے زیر اہتمام “لائیوسٹاک اور میٹ بزنس کا مستقبل” پر آگاہی سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد:(سب نیوز) ماہرین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان کا لائیوسٹاک اور میٹ سیکٹر ملکی معیشت، برآمدات میں تنوع، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قیمتی زرمبادلہ کے حصول کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس شعبے کی ترقی کے لیے مؤثر پالیسی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور بین الاقوامی معیار کے مطابق پیداوار کو فروغ دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) اور سگنیچر اسکلز اینڈ سرٹیفیکیشنز کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار “لائیوسٹاک اور میٹ بزنس کا مستقبل” سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا کہ پاکستان قدرتی طور پر لائیوسٹاک کے وافر وسائل سے مالا مال ہے اور حلال گوشت کی عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، جدید ٹیکنالوجی کے محدود استعمال اور دیگر ساختی مسائل کے باعث یہ شعبہ اپنی حقیقی استعداد کے مطابق ترقی نہیں کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ میٹ پروسیسنگ، کولڈ چین لاجسٹکس، ٹریس ایبلٹی سسٹمز، تحقیق، جدت اور بین الاقوامی معیار کی سرٹیفیکیشن میں سرمایہ کاری سے پاکستان عالمی حلال میٹ مارکیٹ میں اپنی مسابقت کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئی سی سی آئی حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر رابطے کا کردار ادا کرتے ہوئے اس صنعت کی پائیدار ترقی کے لیے پالیسی اصلاحات کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

اس موقع پر بریگیڈیئر (ر) عادل اشرف نوید، چیف ایگزیکٹو آفیسر فوجی میٹ لمیٹڈ نے کہا کہ لائیوسٹاک پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے اور جدید پروسیسنگ سہولیات، معیاری پیداواری نظام اور کاروبار دوست پالیسیوں کے ذریعے یہ شعبہ ملکی برآمدات اور زرمبادلہ میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرسودہ فارمنگ طریقوں، کولڈ چین انفراسٹرکچر کی کمی، ویلیو ایڈیشن کی محدود صلاحیت، بڑھتی پیداواری لاگت اور بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے میں درپیش مشکلات جیسے مسائل کو حل کیے بغیر اس شعبے کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔

ڈاکٹر شہزاد جدون، سی ای او/ڈائریکٹر آل ٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر مویشی پالنا، متوازن خوراک اور جدید فارمنگ طریقوں کو اپنانا پیداوار اور منافع میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور کسانوں کی استعداد کار میں سرمایہ کاری کے ذریعے عالمی معیار کا گوشت تیار کیا جا سکتا ہے۔

پیرزادہ واجد حسین شاہ، سابق ڈبلیو ٹی او چیف اور پالیسی اینالسٹ نے کہا کہ پاکستان کو لائیوسٹاک کے شعبے میں قدرتی برتری حاصل ہے، لیکن عالمی گوشت کی تجارت میں موجود مواقع سے ابھی تک مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹری اور فائٹو سینیٹری تقاضوں پر عملدرآمد، ٹریس ایبلٹی سسٹمز، بین الاقوامی سرٹیفیکیشن اور مستقل تجارتی پالیسیوں کے ذریعے پاکستانی برآمد کنندگان عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

راجہ طاہر لطیف، سی ای او سگنیچر میٹ نے کہا کہ دنیا بھر میں حلال گوشت کی بڑھتی ہوئی طلب پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید سلاٹر ہاؤسز، پروسیسنگ یونٹس، برانڈنگ، پیکیجنگ، کولڈ اسٹوریج، مؤثر لاجسٹکس اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں کی ہنرمندی میں سرمایہ کاری پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے، طاہر ایوب

اس سے قبل سجاد حسین لنگڑیال، چیئرمین آئی سی سی آئی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے میٹ اینڈ لائیوسٹاک، جنہوں نے سیمینار کی نظامت بھی کی، نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد پالیسی سازوں، ماہرین، کاروباری شخصیات اور برآمد کنندگان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے لائیوسٹاک اور میٹ سیکٹر کی ترقی کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنا ہے تاکہ یہ شعبہ قومی معیشت میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکے۔

آخر میں آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے معزز مقررین کا قیمتی آراء اور تجربات شیئر کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئی سی سی آئی معیشت کے اہم شعبوں کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو مضبوط بنانے کے لیے آئندہ بھی ایسے علمی و آگاہی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھے گا۔

سیمینار میں کاروباری شخصیات، برآمد کنندگان، لائیوسٹاک فارمرز، میٹ پروسیسرز اور کاروباری برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، ذوالقرنین عباسی، عمران منہاس اور اسحاق سیال، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، سینئر ممبران اسرار مشوانی اور ساجد اقبال سمیت لائیوسٹاک اور میٹ انڈسٹری سے وابستہ متعدد نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔