اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے )کے ممبر اسٹیٹ کی تعیناتی کو قانونی طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ شہری خالد محمود نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ پٹیشن نمبر 3388/2026 دائر کر کے مدعا علیہ نمبر 4 مسٹر زمان وٹو سے قانونی اختیار ثابت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔درخواست گزار کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 6اپریل 2026 کو نوٹیفیکیشن نمبر 1/58/2020-ای-6 جاری کر کے حکومت پنجاب کے ریٹائرڈ پی ایم ایس افسر مسٹر زمان وٹو کو فوری اثرسے کنٹریکٹ کی بنیاد پر سی ڈی اے کا ممبر اسٹیٹ تعینات کیا تھا۔
پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ ممبر اسٹیٹ کا عہدہ سی ڈی اے آرڈیننس 1960 کے سیکشن 6 کے تحت ایک سٹیچوٹری پبلک آفس ہے۔ اس پر عوامی اراضی اور قیمتی عوامی حقوق سے متعلق اختیارات حاصل ہیں۔ لہذا اس پر تعیناتی شفافیت، میرٹ اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔درخواست میں کہا گیا کہ نوٹیفیکیشن میں صرف سیکشن 6 کے تحت تعیناتی لکھا گیا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ تعیناتی کا عمل کیا تھا، کون سے معیار لاگو ہوئے، بین الاضلاعی مشاورت ہوئی یا نہیں، اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کس بنیاد پر دی گئی۔علاوہ ازیں سی ڈی اے کے اندر پہلے سے سروس کرنے والے افسران موجود ہیں جن کے پاس ادارے کا تجربہ ہے۔ باہر سے ریٹائرڈ افسر کو لانے کے لیے کوئی غیر معمولی جواز یا خصوصی مہارت ثابت نہیں کی گئی۔ یہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 یعنی مساوات اور منصفانہ سلوک کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ تعیناتی سے متعلق ابتدائی سمری، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے تبصرے، کنٹریکٹ کی شرائط اور قانونی فریم ورک کی تعمیل کا کوئی ریکارڈ عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا۔ یہ تمام دستاویزات صرف حکومت کے پاس ہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ رِٹ آف کو وارنٹوجاری کر کے قرار دیا جائے کہ مسٹر زمان وٹو ممبر اسٹیٹ کا عہدہ رکھنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتے۔6اپریل کا تعیناتی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے،حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ مکمل تعیناتی کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرے،جب تک قانونی حیثیت ثابت نہ ہو، مسٹر زمان وٹو کو ممبر اسٹیٹ کے اختیارات استعمال کرنے سے روکا جائے۔ ۔پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ سی ڈی اے آرڈیننس کا سیکشن 6 وفاقی حکومت کو ممبران تعینات کرنے کا اختیار دیتا ہے، لیکن یہ اختیار مطلق نہیں ہے۔ ہر سرکاری اختیار آئین، قانون اور اچھی حکمرانی کے اصولوں کے مطابق استعمال ہونا لازمی ہے۔درخواست گزار کی طرف سے بیرسٹر قاسم نواز عباسی، بیرسٹر راجہ ایم علی عباس جلاپ، علی ضیب چنہ بطور وکیل پیش ہوئے ۔ عدالت فریقین کے دلائل اور سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی۔

