اسلام آباد(سب نیوز) پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف)نے ملک میں فٹبال کو ایک باقاعدہ کمرشل انڈسٹری اور تجارتی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے 8 فرنچائزز پر مشتمل پہلی ‘مینز پروفیشنل فٹبال لیگ’ کا جامع پلان تیار کر لیا ہے۔ اس تاریخی لیگ کے انعقاد سے سینکڑوں مقامی کھلاڑیوں کو مستقل روزگار اور بین الاقوامی معیار کا پروفیشنل کیریئر میسر آئے گا، جبکہ ملک بھر میں اسٹیڈیمز کے انفراسٹرکچر اور ‘فیفا فارورڈ مینی پچز’ کی تعمیر پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔
پی ایف ایف کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق، صدر سید محسن گیلانی کی وژنری قیادت اور ‘انٹرنیشنل فیفا ڈپلومیسی’ کی بدولت پاکستان فٹبال نے گزشتہ دو سالوں میں کئی تاریخی فتوحات سمیٹی ہیں۔ فیفا اور اے ایف سی کی قیادت سے براہ راست رابطوں کے نتیجے میں پاکستان نے 74 سالہ تاریخ میں پہلی بار مالدیپ میں فیفا سے تسلیم شدہ ٹائٹل جیتا۔ اس کے علاوہ، مینز ٹیم نے پہلی مرتبہ ‘فیفا ورلڈ کپ 2026 کوالیفائرز’ کے دوسرے رانڈ میں جگہ بنائی، جبکہ ویمنز ٹیم نے بھی رینکنگ میں ریکارڈ ساز ترقی حاصل کی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فٹبالرز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ارجنٹائن، جاپان، سعودی عرب اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کیے گئے ہیں، جبکہ دنیا کی مایہ ناز ‘لا-لیگا’ کے ساتھ بھی شراکت داری آخری مراحل میں ہے۔
گراس روٹ لیول پر کھیل کو مضبوط کرنے کے لیے ‘فٹبال فار اسکولز’ پروگرام کے تحت ملک بھر میں ڈیڑھ لاکھ فٹبالز تقسیم کی جا رہی ہیں۔انتظامی سطح پر بڑی اصلاحات کرتے ہوئے پی ایف ایف کے آئین کو فیفا کے قوانین کے مطابق ڈھالا گیا ہے، برسوں سے معطل بینک اکانٹس بحال کر کے مالیاتی نظام کو سو فیصد شفاف بنایا گیا ہے اور کھیل میں کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کا راستہ بند کر کے آپریشنل خود مختاری حاصل کی گئی ہے۔ ان تمام اقدامات سے واضح ہے کہ پاکستان فٹبال اب بحرانوں سے نکل کر ترقی کی نئی بلندیوں کی طرف گامزن ہے۔
