واشنگٹن (شاہ خالد خان، ریذیڈنٹ ایڈیٹر)— امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت کے آئینی حق کو برقرار رکھتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع حکم نامے کو مسترد کر دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے 6 سے 3کے فیصلے میں واضح کیا کہ امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر بچہ، چاہے اس کے والدین غیر قانونی طور پر موجود ہوں یا عارضی ویزے پر رہائش رکھتے ہوں، آئینی طور پر امریکی شہری سمجھا جائے گا۔ عدالت نے اس فیصلے میں 14ویں ترمیم کے شہریت والے آرٹیکل کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ پیدائش کی بنیاد پر شہریت تقریباً تمام بچوں کو حاصل ہے۔
چیف جسٹس جان رابرٹس نے majority opinion میں لکھا کہ “پیدائشی شہریت امریکہ کے آئینی وعدے کا اہم حصہ ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔” انہوں نے 1898 کے مشہور وونگ کِم آرک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت “امریکہ میں پیدا ہونے والا” شخص، جو عدالت کے دائرہ اختیار میں ہو، خود بخود شہری بن جاتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ صرف دو قسم کے استثناء ہیں:
- غیر ملکی سفارت کاروں کے بچے
- دشمن ملک کی فوج کے دوران پیدا ہونے والے بچے
ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کے پہلے روز (20 جنوری 2025) ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس میں غیر شہری یا غیر قانونی طور پر مقیم والدین کے بچوں کو پیدائشی شہریت نہ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ متعدد لوئر کورٹس نے اسے پہلے ہی روک دیا تھا، اور اب سپریم کورٹ نے حتمی طور پر اسے آئینی طور پر ناجائز قرار دے دیا۔
یہ فیصلہ لاکھوں خاندانوں، خاص طور پر تارکینِ وطن برادری کے لیے بڑی راحت کا باعث بنے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکم نامے کے نافذ ہونے کی صورت میں ہر سال تقریباً دو لاکھ بچوں کی شہریت متاثر ہو سکتی تھی۔
عدالت کے تین ججوں نے اس فیصلے سے اختلاف کیا، جبکہ چیف جسٹس سمیت چھ ججوں نے پیدائشی شہریت کے روایتی اصول کی حمایت کی۔
یہ فیصلہ نہ صرف شہریت کے تنازعے کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ آئین کی بالادستی کو بھی دوبارہ واضح کرتا ہے۔
