اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی حکومت نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اسلام آباد سے متعلق معاملے کی تحقیقات کے لیے ہائی لیول مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی۔ وزیراعظم آفس نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر قانون کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارش پر وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے قیام کی منظوری دی، جبکہ کابینہ ڈویژن کی سفارشات کی روشنی میں اس کی حتمی منظوری دی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی میں گریڈ 21 یا اس سے زائد کے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے۔ نیب کے گریڈ 21 کے افسر کو جے آئی ٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹیم میں ایف آئی اے، ایس ای سی پی، ایف بی آر، آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق جے آئی ٹی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو سے متعلق قانونی، انتظامی اور دیگر تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور اپنی تحقیقات کی بنیاد پر جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
وزیراعظم نے جے آئی ٹی کو اپنی رپورٹ 60 روز کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ نیب کو جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے اور سیکریٹریل سپورٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے تمام ڈویژنز، وزارتیں اور متعلقہ ادارے جے آئی ٹی کو مکمل تعاون اور مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے تاکہ تحقیقات کو شفاف اور بروقت مکمل کیا جا سکے۔
