ایتھوپیا نے اپنے سیاحتی مقامات اور ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے اسلام آباد میں سیاحت کے فروغ کی تقریب کا انعقاد کیا
اسلام آباد میں ایتھوپیا کے سفارت خانے نے سیاحت کے فروغ کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس کا مقصد ایتھوپیا کو پاکستان میں ایک بہترین سیاحتی مقام کے طور پر اجاگر کرنا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ اس شاندار تقریب میں سفارت کاروں، ٹریول ایجنٹس، میڈیا اور ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو مدعو کیا گیا تھا۔
اس تقریب میں وزیرِ اعظم کے مشیر اور کوآرڈینیٹر برائے سیاحت، جناب سردار یاسر الیاس خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ان کے ہمراہ وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (افریقہ) جناب حامد اصغر خان نے بطور مہمانِ اعزازی شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایتھوپیا کے سفیر جناب ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات پر زور دیا، اور بتایا کہ ایتھوپیا کا تاریخ میں ‘حبشہ’ کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے جس نے پہلی ہجرت کے دوران مسلمانوں کو پناہ دی تھی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ تاریخی مسجدِ نجاشی اور حضرت بلال حبشیؓ کی میراث پاکستانیوں کے لیے بھائی چارے اور روحانی لگاؤ کا ایک لازوال رشتہ قائم کرتی ہے۔
سفیر نے ایتھوپیا کو “Land of Origins” اور افریقہ کے سب سے تیزی سے ابھرتے ہوئے سیاحتی ملک کے طور پر پیش کیا، اور وزیرِ اعظم جناب ڈاکٹر ابی احمد کی دور اندیش قیادت میں تیار کیے گئے عالمی معیار کے ریزورٹس اور پارکس کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایتھوپیا کا دارالحکومت—ادیس ابابا تیسرا بڑا سفارتی مرکز ہے، جس نے گزشتہ سال 150 سے زائد بین الاقوامی سربراہی اجلاسوں کی میزبانی کی۔
سفیر نے ایتھوپین ایئر لائنز کی کراچی سے ادیس ابابا کے لیے براہِ راست پروازوں کو پاکستانی مسافروں کے لیے ایک اہم فائدہ قرار دیا۔
جناب سردار یاسر الیاس خان نے عوام کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے سفارت خانے کے اقدام کو سراہا اور پاکستان اور افریقہ کے درمیان فضائی رابطے کا خلا پر کرنے پر ایتھوپین ایئر لائنز کی تعریف کی۔ انفلوئنسرز کے باہمی تبادلے کا اعلان کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ پاکستانی کانٹینٹ کریئیٹرز جلد ایتھوپیا کا دورہ کریں گے، جبکہ ایتھوپین اور افریقی انفلوئنسرز کو پاکستان کے لیے مفت سیاحتی پیکجز فراہم کیے جائیں گے۔
جناب حامد اصغر خان نے پاکستان میں براہِ راست پروازوں کے آغاز پر ایتھوپیا کا شکریہ ادا کیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم کڑی قرار دیا۔ ایتھوپیا کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے، انہوں نے ایتھوپیا میں توانائی کی وسیع پیداوار، شہری علاقوں میں تیزی سے ہونے والی ترقی، شاندار سیاحتی مناظر اور خاص طور پر ہوا بازی کے شعبے میں ہونے والی شاندار پیش رفت کی بھرپور تعریف کی۔
