Thursday, June 25, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومپاکستانقومی اسمبلی نے فنانس بل کثرت رائے سے منظور کر لیا،یکم جولائی سے نافذالعمل ہو گا، اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد

قومی اسمبلی نے فنانس بل کثرت رائے سے منظور کر لیا،یکم جولائی سے نافذالعمل ہو گا، اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد

اسلام آباد (سب نیوز)قومی اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کے لیے فنانس بل 2026کثرتِ رائے سے منظور کرلیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں، ایوان نے وزیر خزانہ کی سفارش کردہ ترامیم کی منظوری بھی دیدی،فنانس بل کے تحت یکم جولائی سے نئے ٹیکس اقدامات اور مالیاتی اصلاحات نافذ العمل ہونگی، تنخواہ دار طبقے، جائیداد کے لین دین، سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن اور مختلف کاروباری شعبوں کے لیے ٹیکس کے نئے قواعد متعارف کرائے گئے ہیں،سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد ٹیکس سے مستثنی ہوں گے جبکہ اس سے زائد آمدن پر نئے سلیب کے مطابق ٹیکس عائد ہوگا،بل میں درآمدی موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جبکہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر کی گئی ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس بھی نافذ کیا گیا ہے،کارپوریٹ سیکٹر، بینکنگ کمپنیوں اور فرٹیلائزر صنعت کے لیے اضافی ٹیکس اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ بعض فلاحی اور عوامی خدمت کے اداروں کو ٹیکس چھوٹ اور استثنی دیا گیا ہے، آٹو سیکٹر میں درآمدی گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز کے لیے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں، بعض گاڑیوں پر ڈیوٹیز کم کی گئی ہیں جبکہ بڑی درآمدی اور الیکٹرک گاڑیوں پر نئی شرحیں مقرر کی گئی ہیں،فنانس بل کے تحت ٹیکس نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جانب پیشرفت کرتے ہوئے انکم ٹیکس گوشوارے صرف الیکٹرانک ذرائع سے جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے، ایف بی آر کے الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم میں مداخلت، نقصان یا عدم تنصیب پر سخت جرمانوں اور سزاوں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں فنانس بل کی شق وار منظوری دی گئی، عالیہ کامران، نعیمہ کشور اور شاہدہ اختر علی کی ترامیم مسترد کر دی گئیں جبکہ علی قاسم گیلانی نے اپنی ترمیم واپس لے لی۔پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق شق 3 حذف کر دی گئی، کسٹم ایکٹ میں اثاثے ضبط کرنے سے قبل متاثرہ فریق کو موقف پیش کرنے کا حق دینے کی ترمیم منظور کر لی گئی۔کسٹمز اور ٹیکس مقدمات میں چارٹرڈ اکانٹنٹ کو غیر ووٹنگ رکن کے طور پر شامل کرنے کی اجازت دینے کی ترمیم، اسٹیل سیکٹر کے لیے بجلی کے فی یونٹ استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصولی کا نئے نظام کے قیام کی ترامیم منظور کی گئیں۔ڈیجیٹل اور پی او ایس سے منسلک جوتوں کے کاروبار کو خصوصی رعایت دینے کی ترمیم، پی آئی اے کے علاوہ دیگر ایئر لائنز کیلئے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2027 سے مثر کرنے کی ترمیم، دیگر ایئر لائنز کیلئے بھی طیاروں اور پرزہ جات کی درآمد پر 18 فیصد سیلز ٹیکس چھوٹ کی ترمیم منظور کی گئی۔درآمدی موبائل فون پر ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دینے کی ترمیم، 20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور والے کاروبار کو فائنل ٹیکس رجیم سے نکلنے کا اختیار دینے سے متعلق ترمیم، معاشی مشکلات کے باعث کاروباری نقصان کو بھی اکنامک وائیبلٹی میں شامل کرنے کی ترمیم منظور کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کو بینکاری ڈیٹا کا مرکزی ورچوئل ذخیرہ قائم کرنے کا اختیار دینے کی ترمیم، نان فائلرز پر عائد سرچارج میں نمایاں اضافہ کرنے کی ترمیم، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی ترمیم منظور کر لی گئی۔پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل فنڈز کو مخصوص شرائط کے تحت چھوٹ دینے کی ترمیم، دواسازی، کھاد، چینی اور الیکٹرانکس کے ڈسٹری بیوٹرز کے لیے کم از کم ٹیکس شرح 0.5 فیصد کرنے کی ترمیم، برآمدات کل ٹرن اوور کے 80 فیصد سے زائد ہونے پر سپر ٹیکس کی شق سی 4 لاگو نہ کرنے کی ترمیم منظور ہوئی۔قومی اسمبلی نے غیر مقیم افراد کو سوشل میڈیا ادائیگیوں پر کٹنے والا ٹیکس قابل ایڈجسٹ ٹیکس قرار دینے کی ترمیم، فیڈرل ایکسائز ایکٹ میں خلاف ورزی پر جان بوجھ کر اقدام ثابت کرنا لازمی قرار دینے کی ترمیم، ٹیکس تنازعات کی کمیٹی میں ضرورت پڑنے پر چارٹرڈ اکانٹنٹ شامل کرنے کی اجازت دینے کی ترمیم منظور کر لی۔رجسٹرڈ شخص کو نامزد آڈیٹر پر 15 روز میں اعتراض اٹھانے کا حق دینے کی ترمیم، 75 ہزار ڈالر تک کی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی صفر رکھنے کی ترمیم، 75 ہزار سے 1 لاکھ 10 ہزار ڈالر مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی ترمیم منظور کی گئی۔فنانس بل میں 1 لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد کی الیکٹرک گاڑیوں پر 40 فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی ترمیم، ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم سے منسلک صنعتوں کو خصوصی رعایت دینے کی ترمیم، 2000 سے 3000 سی سی درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 86 فیصد مقرر کرنے کی ترمیم اور 3000 سی سی سے زائد درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 92 فیصد مقرر کرنے کی ترمیم منظور کر لی گئی۔قومی اسمبلی میں فنانس بل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا جس کی کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی، اس کے بعد ایوان کا اجلاس بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ فنانس بل 2026 کی منظوری کے ساتھ ہی حکومت کی نئی مالیاتی اور ٹیکس پالیسی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے اور تمام اہم اقدامات یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوں گے۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حکومت کے ڈھائی سال پورے ہونے کو ہیں،اب ہمیں اپنا ٹون بدلنا ہوگا، جس انداز میں آپ نے بحیثیت اسپیکر آپ نے اس ہاوس کو چلایا باوجود اس کے کہ آپ کا تجربہ تھا، آپ نے نہ آئین و قانون کا خیال رکھا اور چابک دستی سے اپنے 14 کولیگز کو اسمبلی سے فارغ کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور کوٹ لکھپت کے قیدی سارے ستر سال سے اوپر تھے، کچھ تو خدا کا خوف کریں، آپ نے ریکارڈ قائم کیا، 5 لوگوں کو آپ نے 286 سال قید کی سزا دی ہے، آپ نے ماہ رنگ بلوچ کو بھی عمر بھر کی جیل دے دی، آپ نے آئین روندنے میں غیر جمہوری حکومتوں کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ چیخ رہے تھے کشمیری، کل وفد آیا تھا چیخ رہے تھے کشمیری کہ ہمارے پاس آٹا نہیں کچھ نہیں، اس دن بات کی شہباز بھائی سے، جس انداز میں انہوں نے بات کی تھی مجھے مزہ نہیں آیا تھا، آپ کے پاس ٹائم تھوڑا ہے ارد گرد جو ہمارے علاقے میں ہو رہا ہے وہ بہت بڑی بربادی ہے۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ میرے بھائی نے کہا تھا پاکستان ہے تو ہم ہیں، بالکل ٹھیک کہا تھا شہباز بھائی پاکستان کوئی آسمان میں نہیں ہے، پاکستان مطلب بلوچستان سندھ خیبرپختونخوا پنجاب،آپ خیبرپختونخوا کو کیوں پاکستان نہیں سمجھتے، ہم سب نے حلف لیا ہے کہ ہم آئین پاکستان کی حفاظت کریں گے، آپ نے اپنے ووٹ کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔