Tuesday, June 16, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزآبنائے ہرمز کی بندش کے دوران امریکا نے تیل کی اسمگلنگ کیلئے ایرانی طریقہ اپنایا، رائٹرز

آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران امریکا نے تیل کی اسمگلنگ کیلئے ایرانی طریقہ اپنایا، رائٹرز

تہران(آئی پی یس )آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران امریکا نے خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جو ایران پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی نگرانی میں آئل کی خفیہ منتقلیوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا گیا جس کے تحت آبنائے ہرمز کے قریب چھوٹے ٹینکر تیل لے کر مخصوص مقامات تک پہنچتے اور وہاں بڑے بحری جہازوں میں خام تیل منتقل کر دیتے تھے۔یہ طریقہ کار ایران کی جانب سے پابندیوں کے دوران استعمال کی جانے والی تکنیک سے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔رائٹرز کے مطابق یہ آپریشن مئی 2026 کے اوائل میں شروع ہوا اور اس میں کم از کم 92 بحری جہاز شامل رہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور شپنگ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ متحدہ عرب امارات کے ساحلِ فجیرہ اور عمان کی بندرگاہ صحار کے قریب خفیہ تیل منتقلی کے مراکز قائم کیے گئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض جہازوں نے اپنی شناختی ٹرانسپونڈر سسٹمز بند رکھے اور رات کے اوقات میں محدود روشنی کے ساتھ سفر کیا، یہ وہی حربے ہیں جو ماضی میں ایرانی “شیڈو فلیٹ” سے منسوب کیے جاتے رہے ہیں۔ امریکی فوج نے مبینہ طور پر ڈرونز، ہیلی کاپٹروں اور دیگر نگرانی کے ذرائع استعمال کرکے ان قافلوں کی رہنمائی کی۔ذرائع کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل تیل خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک پہنچایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران کو کم کیا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔