اسلام آباد(سب نیوز) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور اقوام کے درمیان باہمی احترام، رواداری اور تعمیری روابط کا فروغ عالمی امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے تصادم کے بجائے مکالمے، سفارت کاری اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار تہذیبوں کے مابین مذاکرات کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جو ہر سال 10جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی سطح پر امن، برداشت، بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کے فروغ کا علمبردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو درپیش سلامتی، معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز کا مثر اور پائیدار حل مشترکہ کاوشوں، پارلیمانی سفارت کاری اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ پارلیمان عوام کی نمائندہ آواز ہیں جو باہمی ہم آہنگی، احترام اور خوشگوار تعلقات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائم 103 پارلیمانی فرینڈشپ گروپس دنیا بھر کی پارلیمانوں کے ساتھ روابط کے فروغ، ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو بہتر طور پر سمجھنے، باہمی اعتماد و احترام کے استحکام اور مشترکہ ترقی و پائیدار امن کے حصول کے لیے مثر کردار ادا کر رہے ہیں۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ مشرقِ وسطی میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر مشرق اور مغرب کے مابین مذاکرات اور افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے مثبت اور فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے بھارت کے پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈا کے تناظر میں شفاف، غیر جانبدار اور مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی اور اس معاملے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر موقع پر تنازعات کے پرامن حل، علاقائی استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کو ترجیح دی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دور اندیش حکمتِ عملی نے پاکستان کے مقف کو عالمی سطح پر مثر انداز میں اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کا دنیا بھر نے اعتراف کیا۔انہوں نے تمام تصفیہ طلب تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنازعات کا حل صرف مذاکرات، افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کے حقوق، خودمختاری کے احترام اور حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اور اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے فلسطین میں نہتے اور مظلوم شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم شدید تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر کشمیری و فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کے خاتمے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کا احترام علاقائی امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ تہذیبوں، اقوام اور ریاستوں کے درمیان مکالمہ اور باہمی افہام و تفہیم نہ صرف ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ ہیں بلکہ عالمی تنازعات کے پرامن حل، اعتماد سازی اور پائیدار ترقی کے حصول کا مثر راستہ بھی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن، بین الاقوامی تعاون اور تعمیری سفارت کاری کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان روابط، مکالمہ اور باہمی احترام نفرت، انتہا پسندی اور تعصب کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال دنیا کے قیام کے لیے عالمی برادری کو باہمی احترام، مساوات اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

