نئی دہلی (آئی پی ایس)سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکانٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعوی کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کانٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعوی کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکانٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعوی کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکانٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا:اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکانٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کانٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکانٹ، جو عموما پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعوی کیا:
اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔ اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

