تہران (آئی پی ایس) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مبینہ طور پر سپریم لیڈر کے دفتر کو اپنا استعفیٰ بھجوا دیا، جس کی وجہ ایرانی حکومت پر پاسدارانِ انقلاب کے مکمل کنٹرول کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اہم ریاستی فیصلوں میں ناصرف مجھے بلکہ دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل اختیارات اب پاسدارانِ انقلاب کے سخت گیر کمانڈرز کے ہاتھ میں جا چکے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر پزشکیان نے خط میں لکھا ہے کہ میں موجودہ صورتِ حال میں نہ تو حکومت چلا سکتا ہوں اور نہ ہی اپنی آئینی ذمے داریاں ادا کرنے کے قابل ہوں، اسی لیے میں نے مستعفی ہونے کی درخواست کی ہے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایرانی صدر پزشکیان اور پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کے درمیان اختلافات کی بڑی وجہ حالیہ جنگی حکمتِ عملی، اس کے معاشی اثرات اور عوام کی مشکلات بنیں۔
بتایا جارہا ہے کہ جنگ کے بعد ایران کی معیشت اور عوامی زندگی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے صدر پزشکیان کے استعفیٰ دینے کی خبروں کی سختی سے تر دید کر دی ہے۔
ایرانی صدارتی دفتر اور سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر پزشکیان معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، ان کے استعفے کی خبریں جھوٹا پروپیگنڈا ہیں۔
ایرانی صدر کے استعفیٰ سے متعلق افواہوں پر تہران کا ردعمل آ گیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

