Sunday, May 24, 2026
ہومپاکستانسائوتھ ایئر کا قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود پروازوں کے آغاز میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار

سائوتھ ایئر کا قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود پروازوں کے آغاز میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد (خصوصی نمائندہ)پاکستان کی نئی علاقائی ایئرلائن سائوتھ ایئر نے تمام انتظامی، تکنیکی اور قانونی تقاضے مکمل کرنے کے باوجود پروازوں کے آغاز میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر نجی سرمایہ کاروں کو اسی طرح ریگولیٹری رکاوٹوں اور غیر ضروری تاخیر کا سامنا رہا تو ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول مزید متاثر ہوگا۔

1

اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ساوتھ ایئر کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نشاط فاطمہ اور چیف آپریٹنگ آفیسر وائس ائیر مارشل(ر)اعجاز ملک نے کہا کہ ساوتھ ایئر محض ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں کو قومی فضائی نظام سے جوڑنے کا ایک قومی وژن ہے، جس کا مقصد بلوچستان، جنوبی پنجاب، اندرون سندھ اور دیگر محروم خطوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملتان بیسڈ ایس او ایس گروپ کے تحت قائم کی جانے والی اس ایئرلائن نے اپنی تمام آپریشنل، تکنیکی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جبکہ کمپنی کے دو جدید طیارے کئی ہفتوں سے کراچی ایئرپورٹ پر کھڑے ہیں۔ مزید دو طیارے فرانس سے پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں مگر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی حتمی منظوری نہ ملنے کے باعث آپریشن شروع نہیں ہو پا رہا۔انہوں نے کہا کہ کمپنی کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کر چکی ہے اور تاخیر کے باعث ہر گزرتے دن کے ساتھ طیاروں کی پارکنگ فیس، ماہانہ لیز رینٹ، عملے کی تنخواہوں اور دیگر آپریشنل اخراجات کی مد میں بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ اگر ایک نئی ایئرلائن تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور مکمل آپریشنل تیاری کے باوجود بروقت پروازیں شروع نہ کر سکے تو بیرونی اور مقامی سرمایہ کار پاکستان کے بارے میں کیا تاثر لے کر جائیں گے۔ن

WhatsApp Image 2026 05 24 at 6.59.52 PM

شاط فاطمہ اور اعجاز ملک نے کہا کہ ساتھ ایئر خصوصا گوادر، تربت اور پنجگور جیسے اہم مگر طویل عرصے سے نظر انداز علاقوں کو ملک کے بڑے شہروں سے فضائی طور پر منسلک کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ سیہون شریف اور ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے بھی روزانہ پروازیں شروع کی جائیں گی۔ ان کے مطابق یہ اقدام صرف سفری سہولت نہیں بلکہ علاقائی ترقی، سیاحت، تجارت، روزگار اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے فضائی رابطوں کو معاشی ترقی اور علاقائی خوشحالی کی بنیاد بنایا، مگر افسوس کہ پاکستان میں یہ شعبہ اب بھی غیر ضروری بیوروکریسی، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور ریگولیٹری تاخیر کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو سی پیک اور پاکستان کے معاشی مستقبل کا مرکز قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں کے کئی اہم علاقے آج بھی معیاری فضائی سہولتوں سے محروم ہیں۔انہوں نے حکومت اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ نئی نجی ایئرلائنز کے لیے شفاف، تیز رفتار اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کیا جائے تاکہ پاکستان کا فضائی شعبہ حقیقی معنوں میں مضبوط، مسابقتی اور عوام دوست بن سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔