اسلام آباد: پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر۔ فرنانڈیز نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا دورہ کیا اور تاجر برادری کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں شرکت کی، جس میں پاکستان اور فلپائن کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔
سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر۔ فرنانڈیز نے فلپائن کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ملک اور آسیان مارکیٹس تک رسائی کا اہم گیٹ وے قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلپائن اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی لوکیشن کے باعث ایشیا کے قلب میں واقع ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔ انہوں نے تفصیلی پریزنٹیشن کے ذریعے فلپائن کی معاشی طاقت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کو اجاگر کیا اور کہا کہ فلپائن دنیا کی بڑی صارف مارکیٹس تک رسائی فراہم کرتا ہے، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بے شمار امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی، زرعی کاروبار، آئی ٹی، صحت، سیاحت، رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ سفیر نے بتایا کہ فلپائن سرمایہ کاروں کو سات سال تک انکم ٹیکس میں چھوٹ، ڈیوٹی فری درآمدات اور وی اے ٹی استثنیٰ سمیت متعدد مراعات فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے خصوصاً آسیان مارکیٹس کے لیے حلال فوڈ مصنوعات میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کاروباری روابط، تجارتی وفود کے تبادلوں اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ فلپائن کا سفارت خانہ، بالخصوص آئی سی سی آئی کے اراکین کو ہر ممکن سہولت اور تعاون فراہم کرے گا۔
اس موقع پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلپائن کو ٹیکسٹائل، ادویات، چاول، لیدر مصنوعات، اسپورٹس گڈز اور جراحی آلات برآمد کرتا ہے جبکہ فلپائن سے الیکٹرانک آلات، مشینری، کیمیکلز اور پراسیسڈ فوڈ درآمد کیے جاتے ہیں۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ مضبوط سفارتی تعلقات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم ابھی اپنی حقیقی استعداد سے کم ہے۔ انہوں نے براہِ راست رابطوں، تجارتی وفود کے تبادلوں اور سنگل کنٹری نمائشوں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی آئی فلپائن کے سفارت خانے کے ساتھ مل کر تجارتی روابط کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گا۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے نجی شعبے کے درمیان تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر زور دیا۔
آئی سی سی آئی کے سابق صدر اور قائمہ کمیٹی برائے سفارتی امور کے چیئرمین ظفر بختاوری نے آسیان کو علاقائی تعاون کا کامیاب ماڈل قرار دیتے ہوئے ویلیو ایڈڈ شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
آئی سی سی آئی کی قائمہ کمیٹی برائے آسیان کے چیئرمین چوہدری محمد علی نے کہا کہ فلپائن کے ساتھ مضبوط اقتصادی روابط پاکستان کو آسیان مارکیٹس تک بہتر رسائی فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
آئی سی سی آئی کے سابق صدر میاں شوکت مسعود نے دونوں ممالک کی آئی ٹی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
روزنامہ پاکستان آبزرور کے چیئرمین و ایڈیٹر اِن چیف فیصل زاہد ملک نے اس موقع پر کہا کہ آئی سی سی آئی کا یہ اقدام پاکستان کے آسیان ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
تقریب میں فلپائن سفارت خانے کی تھرڈ سیکرٹری اور وائس قونصل محترمہ رین آر۔ مینڈوزا، آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری، ایگزیکٹو ممبران وسیم چوہدری، ذوالقرنین عباسی، روحیل انور بٹ، اسحاق سیال، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، سینئر رکن اسرار مشوانی اور تاجر برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
