اسلام آباد (آئی پی ایس )ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے مزید 13سب لیز ہولڈر اپارٹمنٹ مالکان نے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کے سنگل بینچ کے لیز منسوخی کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی۔انٹراکورٹ اپیل میں کہا گیا ہے کہ اپیل کنندگان نے مکمل ادائیگی کے بعد اپارٹمنٹس کا قبضہ حاصل کیا۔ ان کا لیز حاصل کرنے والی کمپنی بی این پی کی نادہندگی سے کوئی تعلق نہیں۔سنگل بینچ کا فیصلہ کاالعدم اور سب لیز ہولڈرز کے معاہدوں کو قانونی قرار دیا جائے جبکہ انٹراکورٹ اپیل پر فیصلے تک اپیل کنندگان کی اپارٹمنٹس سے بے دخلی روکنے کے احکامات بھی جاری کیے جائیں۔
خولہ مجید سمیت 13 افراد نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کے 30 اپریل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ سنگل بینچ اس پراجیکٹ کے تکمیل شدہ باقبضہ رہائشی ٹاورز اور نامکمل تعمیری حصے میں تفریق کرنے میں ناکام رہا، رہائشی ٹاورز کی تکمیل کے بعد سب لیز ہولڈرز کو مکمل ادائیگی کے بعد اپارٹمنٹس کا قبضہ دیا گیا جہاں فیمیلز رہائش پذیر ہیں۔سنگل بینچ نے فیصلے میں سب لیز ہولڈرز کا خیال نہیں کیا جن میں سے اکثر اوورسیز پاکستانی ہیں، انٹراکورٹ اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ اپیل کنندگان کا بی این پی کمپنی کی نادہندگی یا خلاف ورزی سے کوئی تعلق نہیں، سپریم کورٹ نے لیز بحالی کے وقت اپنے فیصلے میں اپیل کنندگان کو ادائیگیوں یا بینک گارنٹی دینے کا پابند نہیں بنایا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے میں سب لیز ہولڈر اپارٹمنٹ مالکان کے لیے ڈیفالٹ کمپنی بی این پی کے ساتھ ڈوبنے کا تیرنے کا کہا گیا۔ بی این پی کمپنی پہلے ہی اربوں روپے کی نادہندہ ہے جس کا اپیل کنندگان کو رقوم کی واپسی مشکل ہے۔سنگل بینچ کے فیصلے سے سب لیز ہولڈرز کے حقوق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ انٹراکورٹ اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنگل بینچ نے سپریم کورٹ کے جس فیصلے پر انحصار کر کے sink or sail کی اصطلاح استعمال کی وہ کالعدم ہو چکا، کسی کالعدم فیصلے کو عدالتی نظیر کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔انٹرا کورٹ اپیل کے مطابق سی ڈی اے نے لیز منسوخی کے بعد رہائشیوں کی کمیٹی بنا کر ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جو اپیل کنندگان کے قبضہ کو درست تسلیم کرنا ہے۔
