Wednesday, May 20, 2026
ہومتازہ ترینپاکستان اور آسٹریلیا کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار پر قائم ہیں، چیئرمین سینیٹ

پاکستان اور آسٹریلیا کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار پر قائم ہیں، چیئرمین سینیٹ

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تعلقات باہمی احترام، جمہوری اقدار، عوامی روابط اور عملی تعاون پر استوار ہیں، جبکہ دونوں ممالک تجارت، زراعت، تعلیم، کھیل، موسمیاتی تبدیلی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں مسلسل شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ڈپلومیٹک انکلیو اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین کی جانب سے منعقدہ ’’آسٹریلیا ڈے اِن اسپرنگ 2026‘‘ کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کے موقع پر کیا۔
تقریب میں سفارتی برادری، پارلیمنٹیرینز، اعلیٰ سرکاری حکام، کاروباری شخصیات، میڈیا نمائندگان، سول سوسائٹی، آسٹریلیا سے تعلیم حاصل کرنے والے سابق طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء نے آسٹریلیا کے قومی دن کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مضبوط ہوتی دوستی کو بھی سراہا۔


چیئرمین سینیٹ نے آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ آسٹریلوی دفاعی افواج کے افسران 1907ء سے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افسران میں فیلڈ مارشل تھامس بلیمے بھی شامل تھے، جو بعد ازاں آسٹریلیا کے پہلے اور واحد فیلڈ مارشل بنے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور دیرینہ تعاون کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے تعلقات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ پارلیمانی جمہوریت، عالمی امن، ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے 2011ء میں پرتھ میں ہونے والے دولتِ مشترکہ سربراہی اجلاس کے دوران آسٹریلیا کی سابق وزیر اعظم جولیا گیلارڈ سے ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان روابط نے تجارت، زراعت، انسداد دہشت گردی اور معاشی ترقی میں تعاون کے نئے دروازے کھولے۔


اس موقع پر آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے پاکستان سے تعلق رکھنے والے اونٹ بانوں نے آسٹریلیا کے دور دراز علاقوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ اس وقت ایک لاکھ پینتالیس ہزار سے زائد پاکستانی نژاد افراد آسٹریلیا میں آباد ہیں اور اکیس ہزار پاکستانی طلبہ وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک خوراک کے تحفظ، پانی کے بہتر انتظام، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور تعلیم کے فروغ جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں معاونت کر رہا ہے، جس میں پانی کے مؤثر استعمال، زمین میں نمکیات کے مسائل، ہائبرڈ گندم، کینو اور آم کی پیداوار کے حوالے سے تحقیق شامل ہے۔ ان کے مطابق دو طرفہ تجارت کا حجم دو ارب چھ سو ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ آسٹریلیا سے درآمد کیے جانے والے چنے، تیل دار بیج اور دودھ دینے والے مویشی پاکستان کے غذائی تحفظ اور ڈیری شعبے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔


چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان-آسٹریلیا پارلیمانی فرینڈشپ گروپ دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورننس، زراعت، ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔


دونوں رہنماؤں نے کرکٹ کو پاکستان اور آسٹریلیا کے عوام کے درمیان محبت اور دوستی کا مضبوط ذریعہ قرار دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے آئندہ دورۂ پاکستان کا خیرمقدم کیا، جبکہ ٹموتھی کین نے کہا کہ کرکٹ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے والا ایک خوبصورت پل ہے۔ انہوں نے کھیلوں کے ذریعے خواتین اور بصارت سے محروم کھلاڑیوں کو آگے بڑھانے کے منصوبوں کی حمایت کو بھی سراہا۔
تقریب کے دوران آسٹریلیا کے قدرتی حسن اور ثقافتی تنوع کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی نمائشوں، ڈیجیٹل بصری مناظر اور دونوں ممالک کے تعلقات کی عکاسی کرنے والے کھانوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔


اپنے خطاب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوستی، پارلیمانی روابط، اقتصادی تعاون اور ثقافتی تبادلوں کا سلسلہ آئندہ برسوں میں مزید مستحکم ہوگا، کیونکہ یہی روابط ایک پُرامن اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔