اسلام آباد(آئی پی ایس )قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی فوری ختم ہونی چاہیے اور انہیں ان کی مرضی کے ہسپتال میں علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔ یہ انا کا نہیں، انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اگر اتفاقِ رائے سے بنی ترامیم کو چھیڑا گیا تو یہ ملک کی بربادی کا راستہ ہوگا۔ ہم اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر ملک گیر پرامن احتجاج کی کال دینی چاہیے۔
اب وقت ہے کہ عوام کے ریلیف کے لیے مل کر آواز اٹھائی جائے ۔ ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے. پاکستان میں عوامی مینڈیٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ جنہیں عوام نے منتخب کیا، انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے جبکہ ہارنے والے دوسروں کے کندھوں پر بیٹھ کر حکمران بن گئے ہیں۔ عمران خان سابق وزیراعظم اور مقبول لیڈر ہیں۔ انسانی بنیادوں پر ان کا علاج ریاست کا فرض ہے، چاہے وہ کل بھوشن یادیو جیسا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ سیاسی معاملات کو انا کا مسئلہ بنانا ملک کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے مزید کہا بلوچستان کے حالات کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ 18ویں ترمیم کے تحت طے شدہ فیصلوں کو چھیڑنا انتہائی خطرناک ہوگا۔
یہ فیصلے تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ہوئے تھے۔پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین کی بحالی اور حقیقی جمہوری حکومت کے قیام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر 18ویں ترمیم کی طرز پر متحد ہو کر مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان(خدا نخواستہ)بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔ جب تک پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ نہیں بنے گی اور آزادانہ فیصلے نہیں کرے گی، غریب عوام کے حالات نہیں بدلیں گے۔جب تک صوبوں کو ان کے اپنے وسائل پر مکمل اختیار نہیں ملتا، ملک میں بے امنی اور گڑبڑ ختم نہیں ہوگی۔ پاکستان میں روزانہ 80 سے 90 افراد (عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار)لقمہ اجل بن رہے ہیں، لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ امریکہ میں ایک جان کے ضیاع پر پورا ملک کھڑا ہو جاتا ہے۔اپوزیشن جماعتیں بجٹ کے حوالے سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل پر کام کر رہی ہیں۔ مہنگائی، بدمعاشی اور دہشت گردی کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پارلیمنٹ کو طاقتور کیا جائے ۔
