اسلام آباد (سب نیوز)قومی اسمبلی نے انسدادِ زنا بالجبر ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت جنسی زیادتی، جسمانی تشدد اور بچوں کے استحصال کو ناقابلِ ضمانت جرائم قرار دیا گیا ہے۔بل کے مطابق پولیس اس بات کی پابند ہوگی کہ زیادتی کا شکار بچے کا 24 گھنٹے کے اندر طبی معائنہ یقینی بنایا جائے، جبکہ اس پورے عمل کے دوران متاثرہ بچے کے وقار، تحفظ اور رازداری کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ متاثرہ بچے کا معائنہ مستند فرانزک ماہر سے کروایا جائے گا اور حاصل ہونے والی فرانزک شہادت کو تفتیش کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے گا۔منظور شدہ بل کے تحت ایسے جرائم میں ملوث افراد کے لیے ضمانت کا امکان ختم کردیا گیا ہے اور کسی بھی عدالت کو عمومی طور پر ضمانت دینے کا اختیار نہیں ہوگا۔تاہم غیر معمولی حالات میں عدالت متاثرہ بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھ سکتی ہے، جبکہ ضمانت دینے سے قبل یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا ملزم کی جانب سے متاثرہ بچے کو کسی قسم کے نقصان یا دھمکی کا خطرہ تو نہیں۔بل میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتیں متاثرہ بچے کی حفاظت اور مجموعی بہبود کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی ضمانت سے متعلق فیصلہ کر سکیں گی۔
