Tuesday, May 12, 2026
ہومپاکستانچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے بیلجیئم کے شاہی وفدکی ملاقات

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے بیلجیئم کے شاہی وفدکی ملاقات

اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سینیٹ پاکستان، سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ ہاوس میں بیلجیئم شاہی وفد کا پرتپاک استقبال کیا، جس میں ہز ہائنس پرنس ایڈورڈ ڈی لائن لا ٹریموئیل اور ہر ہائنس شہزادی ازابیلا اورسینی ڈی لائن لا ٹریموئیل شامل تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں جانب سے خوشگوار ماحول میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارتکاری، علاقائی صورتحال اور پاکستان و بیلجیم کے درمیان تعاون کے فروغ کے مختلف پہلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کی پارلیمنٹ اور عوام کی جانب سے بیلجیم کے عوام کے لیے نیک تمناں کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر اطمینان ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ معزز بیلجیئن وفد کا دورہ پاکستان اور بیلجیم کے درمیان دیرینہ دوستی، باہمی خیرسگالی اور عوامی روابط کے فروغ کا مظہر ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان بیلجیم کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور اسے یورپ میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان۔بیلجیم تعلقات باہمی احترام، جمہوری اقدار اور دوطرفہ و کثیرالجہتی فورمز پر تعمیری تعاون پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی اداروں کے میزبان ملک کی حیثیت سے بیلجیم، پاکستان کے یورپ کے ساتھ روابط کے لیے ایک اہم دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے بیلجیم کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی تعاون کو فروغ ملا ہے۔پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان دنیا بھر کے پارلیمانی اداروں کے ساتھ مکالمے اور تعاون کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پارلیمنٹیرینز اور اداروں کے درمیان روابط میں اضافہ باہمی افہام و تفہیم کو مزید مضبوط بنانے اور جمہوری طرز حکمرانی و پالیسی سازی کے تجربات کے تبادلے میں معاون ثابت ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے بین الاقوامی اسپیکرز کانفرنس (ISC) کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جس کا آغاز ان کی قیادت میں اپریل 2025 میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس فورم کو پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے عالمی امن، تعاون اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے نومبر 2025 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پہلی ISC کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں 39 ممالک کے پارلیمانی وفود نے شرکت کی، جس سے یہ عالمی امن اور ترقیاتی چیلنجز پر مکالمے کا ایک اہم فورم بن گیا۔

انہوں نے مستقبل میں اس کانفرنس میں بیلجیم کی فعال شرکت کی امید بھی ظاہر کی۔معاشی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بیلجیم یورپ میں پاکستان کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے اور پاکستانی برآمدات کے لیے ایک بڑی تجارتی و لاجسٹک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات پر مبنی سفارتکاری اور علاقائی استحکام کے حق میں پاکستان کے اصولی مقف کا اعادہ کیا۔انہوں نے مشرق وسطی میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اپریل 2026 میں ہونے والا حالیہ جنگ بندی معاہدہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ برس جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان نے ذمہ داری، تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت اور بہادری کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔بیلجیئن شہزادے اور شہزادی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی شاندار استقبال پر شکریہ ادا کیا اور عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک عالمی امن کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں وسیع عالمی تنازعات کو روکنے اور بین الاقوامی استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گی۔ملاقات کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے معزز بیلجیئن وفد کا دورہ پاکستان پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بیلجیم کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط، معاشی تعاون اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بیلجیم کے عوام کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف سینٹر راجہ ناصر عباس، سینٹر شیری رحمان، سینٹر منظور احمد کا کڑ، سینٹر جان محمد، سینٹر رانا ثنا اللہ، سینٹر کامل علی آغا، سینٹر سید علی ظفر، سینٹر فیصل جاوید اور ایوان بالا کے اعلی حکام شامل تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔