ووہان(سب نیوز)چین کے صوبہ ہوبئی کے شہر ووہان میں پاکستانی میڈیا نمائندگان اور تھنک ٹینک کے ماہرین کے ایک وفد نے حال ہی میں دورہ کیا، جہاں انہوں نے چین-پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون شراکت داری کے عملی مظاہر کا مشاہدہ کیا۔ یہ تعاون سرحد پار تجارت سے لے کر جدید زرعی اشتراک تک مختلف منصوبوں میں نمایاں نظر آیا۔
یانگلو پورٹ پر بلند و بالا کرینیں خودکار نظام کے تحت منظم انداز میں کنٹینرز کو ترتیب دے رہی تھیں۔ مال بردار گاڑیاں مسلسل آمد و رفت میں مصروف تھیں جبکہ دریا میں جہازوں کی روانی ایک مصروف تجارتی منظر پیش کر رہی تھی۔ دریائے یانگتسی اکنامک بیلٹ اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے اہم سنگم کے طور پر، یانگلو پورٹ وسطی چین کی منڈی تک عالمی تجارت کے لیے ایک مؤثر دروازہ بن چکا ہے۔
یانگلو پورٹ میں واقع ووہان فنانشل ہولڈنگ سینٹرل چائنا ٹریڈ سروس زون کے اندر بیلٹ اینڈ روڈ نیشنل پویلین نے وفد پر گہرا اثر چھوڑا۔ یہ پلیٹ فارم ووہان کی عالمی روابط میں ترقی اور کھلے پن کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
درجنوں ممالک کے پویلینز کے درمیان پاکستانی وفد نے جلد ہی اپنے قومی پرچم کو پہچان لیا۔ پاکستانی صحافی رشیدہ شوکت نے قومی پرچم کے ساتھ تصویر بنوائی اور کہا کہ چین میں پاکستان پویلین اور پاکستانی مصنوعات کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مزید پاکستانی مصنوعات چینی منڈی میں داخل ہوں گی۔
اسی دوران پاکستان پویلین اور دیگر ہالز میں لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے مختلف ممالک کی مصنوعات متعارف کروائی جا رہی تھیں، جبکہ بڑی اسکرینوں پر ناظرین اور لین دین کے اعداد و شمار دکھائے جا رہے تھے۔ پاکستانی قیمتی پتھر بھی ای کامرس کے ذریعے چین بھر میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے صدر جاوید اقبال نے کہا کہ چین ترقی کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق چین جدت، صنعت اور عالمی تجارت کا مرکز ہے، جس سے پاکستان بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای کامرس نے کاروبار کے طریقہ کار کو تیز اور آسان بنا دیا ہے۔
دنیا نیوز کے رپورٹر ذیشان خان نے کہا کہ پاکستان پویلین کو دیکھ کر انہیں فخر محسوس ہوا۔ ان کے مطابق چینی حکومت کی معاون پالیسیاں دوطرفہ تجارت اور روزگار کے مواقع کو مزید فروغ دیں گی۔
بیلٹ اینڈ روڈ نیشنل پویلین کے ذریعے ہوبئی اور دیگر شراکت دار ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط واضح نظر آتے ہیں، جو اس عظیم وژن کو عملی شکل دیتے ہیں۔
یانگلو پورٹ جہاں دنیا کو آبی و ریلوے رابطوں سے جوڑتا ہے، وہیں ووہان کا ہائی ٹیک بایو زرعی پارک معیاری زرعی پیداوار کے ذریعے عالمی روابط کو مضبوط کرتا ہے۔ ووہان چنگفا ہیشینگ ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ کمپنی کے دفتر میں داخل ہونے سے پہلے وفد کے کئی ارکان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہاں چین-پاکستان دوستی کی کتنی کہانیاں موجود ہیں۔
چین نے پاکستان میں ہائبرڈ چاول اور کینولا متعارف کروانے، تحقیقاتی فارمز قائم کرنے، زرعی ماہرین کی تربیت اور بلوچستان میں آفات کے بعد بحالی میں تعاون جیسے اقدامات کیے ہیں۔ یہ تعاون چھوٹے مگر مؤثر اقدامات کے ذریعے مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
تصاویر اور اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ چینی بیجوں نے پاکستان کی زراعت میں حقیقی تبدیلی پیدا کی ہے۔
چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت “ہائبرڈ ڈبل لو کینولا” منصوبہ ایک نمایاں زرعی منصوبہ ہے، جس نے پیداوار اور معیار دونوں میں اضافہ کیا ہے اور خوردنی تیل کی درآمد میں کمی لانے میں مدد دی ہے۔
ہائبرڈ چاول کے شعبے میں چینی ٹیکنالوجی کی بدولت پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا برآمد کنندہ ہونے سے چوتھے نمبر پر آ گیا ہے، اور چینی بیج اس ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ادنان افتخار نے کہا کہ پہلے پاکستانی کسان روایتی طریقے استعمال کرتے تھے اور پیداوار کم تھی، مگر اب جدید ٹیکنالوجی سے آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مستقبل میں مزید بہتری کی توقع ہے۔
جنگ میڈیا گروپ کے سینئر مینیجر نور اللہ نے کہا کہ چین دنیا کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ بیج صرف فصل نہیں بلکہ امید اور محبت کی علامت ہیں، جو دونوں ممالک کے لیے روشن مستقبل کی نوید ہیں۔
ووہان سے پاکستان کے کھیتوں تک، چینی زرعی کمپنیاں ٹیکنالوجی اور صنعت کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط کر رہی ہیں اور زرعی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
