اسلام آباد :اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے ملاقات کی، جس میں نیب کی کارکردگی، اصلاحات اور انسدادِ بدعنوانی کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران چیئرمین نیب نے اسپیکر قومی اسمبلی کو نیب کی سالانہ رپورٹ 2025 پیش کی اور ادارے میں کی جانے والی اصلاحات پر بریفنگ دی۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے نیب کی 6.213 کھرب روپے کی تاریخی ریکوری پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں نیب کی مجموعی ریکوری 11.524 کھرب روپے (تقریباً 41 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچنا ایک بڑا کارنامہ ہے۔
انہوں نے نیب کی 72 فیصد پراسیکیوشن کامیابی کی شرح پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے بعد نیب کا عوام اور کاروبار دوست تنظیم میں تبدیل ہونا قابلِ ستائش ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے نیب کی جانب سے تقریباً 29.8 لاکھ ایکڑ سرکاری و جنگلاتی اراضی واگزار کروانے کو تاریخی اقدام قرار دیا، جبکہ سرمایہ کاری اسکیموں سے متاثرہ 115,587 افراد کو 180 ارب روپے کی ادائیگی کے ذریعے ریلیف فراہم کرنے کو بھی سراہا۔
انہوں نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے نیب کی کارروائیوں کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔
اس موقع پر چیئرمین نیب نے بتایا کہ اصلاحات کے تحت اراکینِ پارلیمنٹ، سول بیوروکریسی، کاروباری برادری اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب نے مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ 2025 میں نیب ای آفس (NEO) سسٹم کے نفاذ سے پیپر لیس نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
چیئرمین نیب نے انسدادِ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں پارلیمنٹ اور اس کے اراکین کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔

