قاہرہ(آئی پی ایس )مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں جاری جنگ کو صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی روک سکتے ہیں، اگر جنگ نہ رکی تو تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرسکتی ہیں۔قاہرہ میں منعقدہ مصر انرجی شو 2026 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہاکہ میں صدر ٹرمپ سے کہتا ہوں کہ ہمارے خطے میں جنگ کو آپ کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔
انہوں نے سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کی تشویش کا حوالہ دیا کہ تیل کی فی بیرل قیمت 200 ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے اور یہ کوئی مبالغہ نہیں۔مصر طویل عرصے سے امریکی فوجی امداد اور خلیجی ممالک کی حمایت حاصل کرتا رہا ہے، عرب ریاستوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کر چکا ہے اور وسیع علاقائی جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اہم بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش اور علاقائی توانائی تنصیبات پر ایرانی حملوں کی مذمت کی۔انہوں نے ورچوئل خطاب میں کہاکہ ایرانی جارحیت پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ توانائی کی تنصیبات کے خلاف ایرانی دھمکیاں اور آبنائے ہرمز کی بندش نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی توانائی کے لیے براہ راست خطرہ بھی ہے۔
خلیج تعاون کونسل جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین شامل ہیں، کو ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایک اہم بحری راستہ متاثر ہوا ہے جہاں سے ماضی میں دنیا کا قریبا پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی رہی ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان بھی سفارتی کردار ادا کررہا ہے، اور اسی سلسلے میں گزشتہ روز سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اسلام آباد آئے، جہاں اعلی سطح مشاورت کی گئی۔اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہاکہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور ان میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم ممکنہ معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔انہوں نے یہ بات فنانشل ٹائمز سے ایک انٹرویو میں کہی، تاہم ممکنہ معاہدے یا جنگ بندی سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
