Wednesday, March 25, 2026
ہومبریکنگ نیوزتمباکو کی غیر قانونی تجارت معیشت کیلئے بڑا خطرہ، سالانہ 400 ارب روپے تک ٹیکس چوری مستقل کریک ڈا ئون ناگزیر قرار

تمباکو کی غیر قانونی تجارت معیشت کیلئے بڑا خطرہ، سالانہ 400 ارب روپے تک ٹیکس چوری مستقل کریک ڈا ئون ناگزیر قرار

اسلام آباد(آئی پی ایس ) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے شعبے میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی تجارت نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ یہ ریاستی رٹ، قانونی کاروبار اور معاشی نظم و ضبط کیلئے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے وقتی کارروائیوں کے بجائے مستقل اور سخت انفورسمنٹ نظام ناگزیر ہو چکا ہے۔

اسلام آباد میں ایک بزنس اسکول کے طلبہ کے زیر اہتمام منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے ایکٹ الائنس پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر مبشر اکرم نے کہا کہ پاکستان میں غیر قانونی تجارت اب ایک منظم شیڈو اکانومی کی شکل اختیار کر چکی ہے اور تمباکو کا شعبہ اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اندازوں اور سینئر ٹیکس حکام کی رپورٹس کے مطابق صرف تمباکو سیکٹر میں سالانہ تقریبا 400 ارب روپے تک ٹیکس چوری ہو رہی ہے، جبکہ غیر اعلانیہ پیداوار، اسمگلنگ، گوداموں میں ذخیرہ اندوزی، جعلی خام مال اور غیر قانونی ترسیل کو شامل کیا جائے تو اصل حجم اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

مبشر اکرم نے کہا کہ جب غیر قانونی مصنوعات کھلے عام مارکیٹ میں دستیاب ہوں تو اس کا براہ راست نقصان قومی خزانے، قانونی صنعت اور حکومتی پالیسیوں کو ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں قانون پر عمل کرنے والی کمپنیاں نقصان میں جاتی ہیں جبکہ غیر قانونی نیٹ ورکس مزید مضبوط ہوتے ہیں، جس سے ریاستی رٹ کمزور پڑتی ہے۔

انہوں نے حالیہ حکومتی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ غیر ڈیوٹی ادا شدہ تمباکو، سگریٹ اور سگریٹ بنانے والے خام مال کی بڑی مقدار کی ضبطگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی سے کارروائی کرے تو غیر قانونی سپلائی چین کو توڑا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وقتی چھاپوں اور مہمات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ سال بھر جاری رہنے والی مسلسل انفورسمنٹ ہی مثر ثابت ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمباکو مارکیٹ اس وقت انفورسمنٹ کا امتحان بن چکی ہے کیونکہ مارکیٹ میں بڑی تعداد میں ایسے برانڈز فروخت ہو رہے ہیں جو ٹریک اینڈ ٹریس سمیت قانونی تقاضے پورے نہیں کرتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مارکیٹ پر کنٹرول کے بغیر ٹیکس بڑھایا گیا تو صارفین مزید سستی اور غیر قانونی مصنوعات کی طرف چلے جائیں گے جس سے ریونیو میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی ہو سکتی ہے۔

مبشر اکرم نے جامعات اور تحقیقاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی معیشت کو سنجیدہ تحقیقی موضوع بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں پھیلی غیر قانونی تجارت معیشت سے کھربوں روپے نکال رہی ہے، اداروں کو کمزور کر رہی ہے اور قانون پر عمل کرنے والوں کو سزا دے رہی ہے، اس لیے تعلیمی اداروں کو شواہد پر مبنی تحقیق اور پالیسی تجاویز سامنے لانی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ سول سوسائٹی، میڈیا، جامعات اور ریاستی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق میڈیا نگرانی برقرار رکھ سکتا ہے، جامعات تحقیق فراہم کر سکتی ہیں، سول سوسائٹی آگاہی پیدا کر سکتی ہے جبکہ حکومت قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنا سکتی ہے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو غیر قانونی تجارت کے خلاف مستقل ماڈل اپنانا ہوگا جس میں ریٹیل سطح پر نگرانی، خام مال کی سخت جانچ، اداروں کے درمیان مثر رابطہ اور احتساب کا مضبوط نظام شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ قانونی معیشت کا تحفظ صرف ریونیو کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے کیلئے بھی ضروری ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔