Tuesday, March 24, 2026
ہومبریکنگ نیوزاسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں مشکوک غیرملکی سافٹ ویئر کا انکشاف، ادارے ہائی الرٹ

اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں مشکوک غیرملکی سافٹ ویئر کا انکشاف، ادارے ہائی الرٹ

اسلام آباد (آئی پی ایس )حکومت نے قومی سطح پر تھریٹ انٹیلی جنس کے انضمام اور تبادلے کا نظام قائم کردیا، نیشنل سرٹ کا مقامی طور پر چلنے والا نظام پی ٹی اے اور پاک فوج کے سائبر ڈویژن کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے جس کے تحت سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگئی۔نیشنل سرٹ کا نظام مالویئر انفارمیشن شیئرنگ پلیٹ فارم کے ذریعے قائم کیا گیا ہے

نیشنل سرٹ کا نظام پاکستان آرمی سائبر ڈویژن اور پی ٹی اے کے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ تینوں اداروں کے درمیان معلوماتی تبادلے سے مربوط قومی سائبر دفاع یقینی ہوگیا ہے تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ نظام سے قومی سائبر سیکیورٹی مزید مستحکم ہوگئی۔مقامی طور پر چلنے والا ایم آئی ایس پی سسٹم ملک کی سائبر خودمختاری مضبوط بناتا ہے، مرکزی تھریٹ انٹیلی جنس سے سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگئی ہے بیرونی انٹیلی جنس پر انحصار کم اور جدید خطرات کے خلاف ریاستی تیاری میں بہتری، اہم قومی، سرکاری اور ٹیلی کام نظام کے نشانہ بنانے کے خطرات سے بروقت آگاہی ملے گی۔

ریئل ٹائم میں خطرات کی تیز رفتار نشاندہی اور ردعمل سے سائبر حملوں کا پھیلاو محدود ہوگا، تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ نظام سے اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم ہوگی، مشترکہ انٹیلی جنس سے تھریٹ ہنٹنگ اور پیشگی خطرات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ دریں اثنا نیشنل سرٹ نے سافٹ ویئر و ہارڈ ویئر کے فوری آڈٹ اور سخت نگرانی کی ہدایت کردی ہے اور نیشنل سرٹ نے تمام اداروں میں زیر استعمال سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کا فوری آڈٹ لازم قرار دے دیا۔

نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کو محفوظ نہ بنانے کی صورت میں بجلی، بینکاری اور دفاعی نظام متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ کمیونی کیشن ڈیوائسز، نیٹ ورک مینجمنٹ ٹولز اور صنعتی کنٹرول سسٹمز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں مشکوک غیرملکی سافٹ ویئر کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ قومی انفراسٹرکچر میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی جامع اسکیننگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے نیشنل سرٹ کی جانب سے ایڈوائری بھی جاری کی گئی ہے جس میں نیشنل سرٹ نے تمام اداروں میں زیر استعمال سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کا فوری آڈٹ لازم قرار دیتے ہوئے وینڈرز کی ملکیت، لاجسٹکس سسٹم اور سپلائی چین کے مکمل جائزے کی ہدایت کی ہے۔ایڈوائزری کے مطابق سافٹ ویئر کی ٹیسٹنگ ایک ہفتے جبکہ ہارڈ ویئر کی جانچ دو ہفتوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی خرابی یا مشکوک سرگرمی کی نشاندہی پر متاثرہ ہارڈ ویئر کو فوری طور پر الگ کرنے اور شواہد محفوظ بنانے کے ساتھ وینڈر کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔

نیشنل سرٹ کا کہنا ہے کہ غیر شفاف وینڈرز، غیر محفوظ لاجسٹکس اور غیر تصدیق شدہ سافٹ ویئر ریاستی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں جبکہ عالمی سپلائی چین اب سائبر تخریب کاری اور جاسوسی کا اہم محاذ بن چکی ہے۔ ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کو محفوظ نہ بنانے کی صورت میں بجلی، بینکاری اور دفاعی نظام متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ کمیونیکیشن ڈیوائسز، نیٹ ورک مینجمنٹ ٹولز اور صنعتی کنٹرول سسٹمز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔