Monday, March 2, 2026
ہومپاکستانایف بی آر کو جولائی سے فروری تک 429 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا

ایف بی آر کو جولائی سے فروری تک 429 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا

اسلام آباد(آئی پی ایس )فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو جولائی سے فروری تک 429 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا ہے، صرف فروری کے دوران 85 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال دیکھا گیا۔

سرکاری دستاویز کے مطابق جولائی سے فروری کے دوران مجموعی شارٹ فال 457 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، ایف بی آر فروری کے دوران 944 ارب روپے ٹیکس جمع کر سکا، جب کہ ہدف 1 ہزار 29 ارب روپے مقرر تھا، فروری کے دوران تقریبا 47 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے۔دستاویز کے مطابق جولائی سے فروری مجموعی طور پر 386 ارب کے ریفنڈز جاری کیے گئے ہیں، فروری میں انکم ٹیکس کی مد میں خالص آمدن 443 ارب روپے ریکارڈ ہوئی، سیلز ٹیکس کی مد میں خالص آمدن 336 ارب روپے، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں خالص آمدن 99 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں خالص آمدن 67 ارب روپے جمع ہوئے۔جولائی سے فروری تک ایف بی آر نے 8 ہزار 121 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا، جب کہ 8 ہزار 550 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا جانا تھا، اس دوران 386 ارب روپے کا ٹیکس ریفنڈ بھی دیا گیا، سیلز ٹیکس کی مد میں 783 ارب روپے جمع ہوئے، جب کہ 3 ہزار 28 ارب روپے جمع کیے جانے تھے، جولائی تا فروری سیلز ٹیکس کا شارٹ فال 245 ارب روپے رہا۔

دستاویز کے مطابق جولائی تا فروری انکم ٹیکس کی مد میں 3 ہزار 956 ارب روپے جمع ہوئے، جب کہ ہدف 4 ہزار 98 ارب روپے تھا، انکم ٹیکس کی مد میں شارٹ فال 142 ارب روپے رہا۔جولائی تا فروری کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 850 ارب روپے جمع ہوئے، جب کہ ہدف 898 ارب روپے تھا، یوں شارٹ فال 48 ارب روپے رہا۔ اس دوران فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 532 ارب روپے جمع ہوئے جب کہ ہدف 526 ارب روپے تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ جولائی سے فروری تک ٹیکس آمدن بڑھنے کی شرح 11 فی صد سے زائد ہے، ایف بی آر گزشتہ سال کی نسبت جولائی سے فروری میں 787 ارب روپے کا زیادہ ٹیکس جمع کیا، معاشی ترقی اور افراط زر کی شرح کی نسبت زیادہ ٹیکس جمع کرنے کی کوشش کی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔