ہومپاکستانہم غزہ منصوبے کو نہیں مانتے، پاکستان آزاد خارجہ پالیسی اپنائے، حافظ نعیم الرحمان

ہم غزہ منصوبے کو نہیں مانتے، پاکستان آزاد خارجہ پالیسی اپنائے، حافظ نعیم الرحمان

لاہور(سب نیوز)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ قومی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے تک ہمارا کوئی امیدوار نہیں ہوگا، کشمیر اور فلسطین ہماری ریڈ لائن ہیں،امریکا کی غلامی اختیار کر کے ہم نے اپنا بہت نقصان کر لیا ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہونی چاہئے، امریکا سمیت کسی ملک کو ڈاکا ڈالنے کا حق نہیں، ہمارا اختلاف بھی وقار کے ساتھ ہونا چاہئے، آزاد فلسطینی ریاست ہی مسئلہ فلسطین کا حل ہے، پاکستان کے حکمران فلسطین کی حمایت کریں اور پوری قوم کو اس پر ساتھ لے کر چلیں، ملک میں قومی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے تک جماعت اسلامی کا کوئی امیدوار نہیں ہے، ہم پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنے والے لوگ ہیں اور صوبوں کو آپس میں لڑوانے والے نہیں ہیں۔

لاہور مینار پاکستان پر جماعت اسلامی کے زیراہتمام بدل دو نظام کے عنوان سے ہونے والے اجتماع عام کے آخری دن خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم غزہ منصوبے کو نہیں مانتے، پاکستان نے فلسطین پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے عالمی استحکام فورس کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، ہم صرف آزاد اور خودمختار فلسطین چاہتے ہیں، جس کسی نے پاکستان کی فلسطین پالیسی سے انحراف کیا تو اسے نشان عبرت بنا دیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم کشمیریوں کو پاکستانی سمجھتے ہیں، پورا پاکستان کشمیریوں کا بیس کیمپ ہے، مودی اور بھارت کی کشمیر پر قبضے کی کوشش پر اس وقت کے حکمران خاموش نہ رہتے تو ایسا نہ ہوتا، لیکن موجودہ حکمرانوں نے اگر ٹرمپ کی ثالثی میں کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کیا تو قوم اسے قبول نہیں کرے گی، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے روڈمیپ پر عمل کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ عام انتخابات کے اعلان تک کسی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے، نواز شریف،عوام اب ہارس ٹریڈنگ کی حقیقت کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ شہریوں نے دیکھ لیا ہے کہ کون اپنے موقف پر ڈٹا رہتا ہے اور کون اپنے عوامی مینڈیٹ کو بیچ دیتا ہے، اسی لیے ہر جگہ حافظ نعیم الرحمن کی حمایت بڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم نے اس وقت سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا جب دوسرے سودے بازی میں مصروف تھے، عوام اپنا فیصلہ کر چکے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وڈیرا صاحب،سندھ کے لوگ ناانصافی پر مبنی غیر منصفانہ کم از کم مزدوری کے خلاف متحد ہو کر حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سالوں سے محنت کش طبقے کو نظر انداز کیا جاتا رہا، لیکن آج سندھ ہمت کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ مطالبہ کر رہا ہے جو ہر محنتی پاکستانی کا حق ہے، عزت، احترام اور منصفانہ اجرت۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ تحریک صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، یہ لوگوں، خاندانوں اور ہمارے صوبے کے مستقبل کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نظم و ضبط کے بغیر تحریکیں ختم ہوجاتی ہیں، قانون سب کے لیے برابر ہوتا ہے، عام انتخابات کے اعلان تک کسی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے، ہم پورے نظام کو چیلنج کرنے کی بات کرتے ہیں،حافظ نعیم نے کہا کہ دنیامیں اب ظلم کا نظام ختم ہونا چاہیے، فلسطین میں انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے، دنیا بھر کے مظلوموں کو اکٹھا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دنیا کے معاملات چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں، انسانیت سسک رہی ہے، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنے مقامی حالات میں کام کرے گی، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گی، جبر کا سامنا کرے گی، لیکن ہم قوم پرست ہیں، نہ تقسیم پیدا کریں گے، ہم پاکستان سے کیوں شکوہ کریں؟ پاکستان کسی وڈیرے، جرنیل یا سیاستدان کی جاگیر نہیں، ہر بلوچ، سندھی، کشمیری، پٹھان، ہزارے وال، پنجابی اور مہاجر سمیت یہاں بسنے والی تمام قومیتوں کا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وقتی پاپولرٹی تباہی لاتی ہے، ہماری اصل طاقت اپنے نظم و ضبط اور اجتماعیت میں ہے، لاہور کے لوگوں نے میزبانی کی، کوئٹہ میں بھی ہم اجتماع کریں گے تو ان شا اللہ وہ بھی اپنی رہائش گاہیں اسی طرح خالی کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جنریشن زی کی سوچ ایک جیسی ہے، نیپال اور بنگلہ دیش میں حال ہی میں حکومتوں کو گھر بھیجا گیا ہے، پاکستان کے حکمرانوں نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو یاد رکھیں کہ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کو ایئرلفٹ کرنے ہیلی کاپٹر پہنچ گیا تھا، لیکن ایسا نہ ہو کہ عوام آپ کو ایئرپورٹ تک پہنچنے بھی نہ دیں۔حافظ نعیم نے کہا کہ دنیا میں انفارمیشن کا طوفان ہے، نئی نسل کا کسی ایک معاملے پر فوکس نہیں ہوتا، شکوے کرنے کے بجائے انہیں سکھائیں، اس نسل کو خود سے کاٹ نہیں سکتے، جدید تعلیم دیکر ان بچوں کو ہم خود سے جوڑے رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے معاملات چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں، انسانیت سسک رہی ہے، ہمیں دین کی سربلندی کے لیے کام کرنا ہے، دین اسلام کاپیغام سب تک پہنچانا ہے، آخری سانس تک کوشش کرنا ہمارا بنیادی بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔انہوں نے زی کنیکٹ پروگرام کا اعلان بھی کیا جو نوجوانوں کے لیے آئی ٹی سمیت جو پروگرامز دے سکے وہ دیں گے، انہیں ابتدائی اور ایڈوانس کورسز کرواکر روزگار کمانے کے قابل بنائیں گے، اس کے ساتھ ساتھ ہنر مندی کے پروگرام بھی شروع کریں گے، پیرامیڈیکل اسٹاف کی تربیت دیکر نئی نسل کو ہنرمند بنائیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔