Wednesday, June 3, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزبھارت کے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے

بھارت کے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے

نئی دہلی (آئی پی ایس )بھارت کے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے، جس سے مودی کے انتخابی فراڈ کا پردہ چاک ہوگیا۔بی جے پی کے کٹھ پتلی مودی راج میں جمہوریت صرف نام کی اور الیکشن ایک اسٹیج ڈراما بن چکا ہے۔ جمہوریت کا لبادہ اوڑھے مودی سرکار نے انتخابی فراڈ کو ریاستی پالیسی بنا لیا۔ نریندر مودی کے دور میں ووٹ بے معنی اور ای وی ایم سے جیت فکس کردی گئی ہے۔بہار الیکشن سے پہلے ہی راہول گاندھی نے مودی کے جعلی مینڈیٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں بی جے پی دور کے انتخابی فراڈ کا پردہ چاک کر دیا کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں لوگوں کو انتخابات میں دھاندلی کا شک تھا، کیونکہ بی جے پی کو کبھی عوامی ناراضی کا سامنا نہیں ہوا۔ رائے شماری اور ایگزٹ پولز کچھ اور دکھاتے تھے، لیکن اصل نتائج بالکل مختلف آتے تھے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ الیکشن نتائج کے بعد مودی لاڈلی بہنا، آپریشن سندور اور پلواما جیسے قومی سلامتی کے ڈرامے رچا کر جھوٹا بیانیہ بناتا ہے۔ پہلے پورے ملک میں ایک دن میں ووٹنگ ہوتی تھی، اب ای وی ایم کے باعث انتخابات مہینوں تک جاری رہتے ہیں۔ ہریانہ، مہاراشٹر اور مدھیا پردیش میں پولز کے نتائج ہمیشہ مختلف نکلے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔