ہوماسلام آبادحریت کانفرنس پر پابندی عائد کی گئی تو سنگین نتائج برآمد ہونگے ،عبدالحمید لون

حریت کانفرنس پر پابندی عائد کی گئی تو سنگین نتائج برآمد ہونگے ،عبدالحمید لون

اسلام آباد ،حریت رہنما عبدالحمید لون نے کہا ہے کہ بھارتی فسطائی حکومت تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لیے نت نئے حربے آزما رہی ہے ،دہلی میں حریت کانفرنس پر پابندی عائد کرنے کی مذموم سازش کی جارہی ہے۔اپنے ایک بیان میں عبدالحمید لون نے کہا کہ حریت کانفرنس پر پابندی عائد کی گئی تو سنگین نتائج برآمد ہونگے ،حریت کانفرنس تنازعہ جموں کشمیر کے سیاسی طور پر دائمی حل کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔عبدالحمید لون نے کہا کہ حریت کانفرنس سیاسی جماعتوں کا ایک مجموعہ ہے ،حریت کانفرنس 1993 میں 26 سیاسی تنظیموں کے ساتھ وجود میں آئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس سیاسی، سفارتی اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں،حریت کانفرنس عالمی سطح پر کشمیری عوام کی نمائندہ جماعت ہے۔حریت رہنما نے کہا کہ حریت کانفرنس او آئی سی رابط گروپ میں کشمیریوں کی نمائندہ جماعت کے ساتھ مبصر رکن کی حیثیت سے شامل جماعت ہے ،حریت کانفرنس پر پابندی عائد کردی گئی تو یہ او آئی سی پر سوالیہ نشان ہوگا،حریت کانفرنس پہلے سے ہی بھارتی عتاب کا شکار ہے۔عبدالحمید لون نے کہا کہ بھارت کی فسطائی حکومت نے 2019 میں غیرقانونی ایکٹ یو اے پی اے کے تحت جماعت اسلامی، جے کے ایل ایف اور دختران ملت پر پابندی عائد کی تھی۔حریت کانفرنس کے متعدد رہنما اور کارکن کئی سالوں سے بھارتی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ بھارت کی بدنام زمانہ ایجنسی این آئی اے نے حریت رہنماؤں اور کارکنوں پر من گھڑت الزامات لگا کر گرفتار کیا اور ان کے املاک(پراپرٹیز)کو ضبط کر لیا گیا تھا ۔انہوں نے مزید کہا کہ آسیہ اندرابی، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، نعیم خان، انجینئر رشیدسمیت متعدد رہنماؤں کو من گھڑت الزامات میں پہلے سے ہی پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔،او آئی سی کے سیکرٹری جنرل بھارت کے غیرقانونی اقدام کو روکنے کے لیے اپنا اثر رسوخ استعمال کرے۔او آئی سی کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی تنظیموں سے بھی اپیل ہے کہ وہ کشمیر کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔