کابل،طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے پاکستان کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)سے متعلق تحفظات پراعلی سطح کا کمیشن قائم کردیا۔
امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کے مطابق ملا ہیبت اللہ کی ہدایت پر پاکستان کے کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق تحفظات پر 3 رکنی کمیشن حال ہی میں بنایا گیا جس نے کام کا آغاز کر دیا ہے۔وائس آف امریکا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ طالبان کمیشن نے کالعدم ٹی ٹی پی کے رہنماں کو پاکستان کے ساتھ معاملات حل کرنے اور پاکستانی حکومت کی جانب سے عام معافی کی صورت میں خاندانوں کے ہمراہ واپس جانے پر زور دیا ہے۔اس حوالے سے اب تک پاکستان اور افغان طالبان نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔دوسری طرف افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ بھارت کو اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد کا بدلہ لینے کیلئے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے باز رہنا چاہیے، نئی حکومت کی تشکیل کیلئے افغان دھڑوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات آئندہ چند روز میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد شروع ہوںگے۔کابل میں سرکاری میڈیا کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد کابل میں ایک ایسی حکومت قائم ہوگی جو افغان عوام اور عالمی برادری کیلئے قابل قبول ہوگی۔ تمام فریقوں کو اس بات کا احساس ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کیلئے افغان سیاسی رہنماں اور طالبان کو باضابطہ طور پر مذاکرات کرنے چاہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے غیر رسمی روابط جاری ہیں جو جلد باضابطہ مذاکرات میں تبدیل ہو جائیںگے۔ گلبدین حکمت یار نے کہا کہ طالبان اپنے بیانات میں یہ کہتے رہے کہ وہ اپنی مرضی کی اسلامی امارات مسلط نہیں کرنا چاہتے اور تمام فریقوں کی مشاورت سے ایک مخلوط حکومت کے قیام کو ترجیح دیںگے۔ایک سوال کے جواب میں حزب اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ کچھ امن دشمن افغانستان میں ایک مستحکم اور مضبوط مرکزی حکومتی نہیں چاہتے۔ بعض غیر ملکی خفیہ ادارے افغان عوام کو بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بیانات جاری کرنے کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ گلبدین حکمت یار نے افغانستان میں امن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ موقف کی بھی تعریف کی۔ادھر افغان طالبان نے وادی پنجشیر کا کنٹرول حوالے کرنے کے لیے شمالی افغانستان کے قومی مزاحمتی محاذ کے رہنما احمد مسعود کو چندگھنٹے کی مہلت دی جس کے ختم ہونے کے بعد طالبان کو حملے کا حکم دے دیا گیا جس کے بعد طالبان جنگجوئوں نے وادی کا گھیرائو کر لیا ، تاہم احمد مسعود نے کہا ہے کہ اگر طالبان نے وادی پر قبضے کی کوشش کی تو انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔احمد مسعود کا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی خاطر طالبان کے ساتھ مل کر وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم اگر طالبان نے مذاکرات سے انکار کیا تو جنگ ناگزیرہوگی، ہم نے سویت یونین کا مقابلہ کیا اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کی راہ ہموار ہوتی ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے والد کا خون معاف کرنے کو تیار ہیں۔ خیال رہے کہ احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود ‘جنہیں پنجشیر کا شیر بھی کہا جاتا ہے’ کا شمار سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کے دوران اہم جہادی کمانڈرز میں ہوتا تھا اور اس دوران سوویت افواج پہاڑوں سے گھرے پنجشیر کے علاقے کو تسخیر کرنے میں ناکام رہی تھی۔بعد ازاں طالبان کے کابل میں اقتدار میں آنے کے بعد بھی پنجشیر کا علاقہ ناقابل تسخیر رہا اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے سے 2 دن قبل ایک خود کش حملے میں اپنی موت سے قبل تک احمد شاہ مسعود طالبان کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتے رہے۔طالبان کے پہلے دور اقتدار میں بھی پنجشیر کا علاقہ طالبان مخالف شمالی اتحاد کا اہم گڑھ تھا اور ایک بار پھر یہ مزاحمت کی آخری سب سے بڑی امید بنتا جارہا ہے۔حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طالبان کے خلاف مزاحم افغان نائب صدر امراللہ صالح، احمد مسعود سے ملاقات کررہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ دونوں طالبان کے خلاف گوریلا جنگ کی تیاریاں کررہے ہیں۔
پاکستان کے تحفظات پر ٹی ٹی پی کیخلاف کمیشن قائم، پنج شیر پر قبضے کیلئے جنگ چھڑ گئی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
