Thursday, May 28, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزپی ٹی آئی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کی حمایت نہ کرنے کا اعلان

پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کی حمایت نہ کرنے کا اعلان

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آج کی قانون سازی کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایجنڈے میں 8 بل رکھے ہیں اب 2021 والا بل تو نہیں ہوسکتا، حکومت جوڈیشل کمیشن کا اعلان کرے تو ہم دوبارہ غور کرلیتے ہیں۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے اعلان کے لیے 7 روز بھی بہت تھے، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مذاکرات روکے ہیں، ہم دوبارہ غور کرلیتے ہیں لیکن حکومت جوڈیشل کمیشن کا اعلان تو کرے، کس بات نے روکا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ مشترکہ اجلاس میں آج کی قانون سازی کی حمایت نہیں کریں گے، ایجنڈے میں 8 بل رکھے ہیں اب 2021 والا بل تو نہیں ہوسکتا۔
پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار نے کہا کہ ہم احتجاج ہی کرسکتے ہیں ہمیں بولنے ہی نہیں دیتے، حکومت کے منظور شدہ سارے قانون نقلی ہیں، ایوان نامکمل ہے ایسے میں تمام قانون سازی غیرقانونی ہیں۔
شاندانہ گلزار نے مزید کہا کہ یہ 2 سال کا گند صاف کرنے میں ہمیں 5 سال لگیں گے، ہمیں آنے دیں پاکستان کو مستحکم کریں گے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما عقیل ملک نے کہا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن بغیر اجازت غیرقانونی احتجاج اور جلاؤ گھراؤ کی اجازت نہیں، اسلام آباد میں چوتھی یا پانچویں دفعہ دھاوا بولیں گے تو پھر نتائج بھی خود ہی بھگتیں گے۔
رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے کہا کہ کالی حکومت کے کالے قوانین ہیں، حکومت نے رات کے اندھیرے میں مشترکہ اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا ہے، مشترکہ اجلاس میں کیا ہوتا ہے تھوڑی دیر بعد معلوم ہوگا۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ جو حکومت کو تکلیف دے گی وہ فیک نیوز ہوگی، یہ زیادتی کی گئی ہے ،پہلے والی حکومت نے بھی زیادتی کی اور اب یہ بھی کررہی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔