تحریر : محمد صابر مسعود
@sabirmasood_
ایک وقت تھا کہ ہرطرف اسلام کی گونج تھی، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں کا ڈنکا تھا، یہود و ہنود ان کے احکامات کے منتظر ہوتے تھے لیکن آج وہی مسلمان سوائے معدود چند کے ہر طرف ظلم و ستم کی چکی میں پستا ہوا نظر آ رہا ہے خواہ وہ ہندوستان کے مظلوم مسلمان ہوں یا فلسطین و شام کے بے کس و بے بس مسلمان، کبھی تو ان کو انتہاپسند تنظیموں کے ہاتھوں تشدد کے ذریعہ شہید کیا جا رہا ہے تو کبھی ان پر بمباری کرکے ملبے کے ڈھیروں تلے دفن کیا جا رہا ہے۔ الغرض آج مسلمان ہر طرف ظلم و زیادتی اور نفرت بھری نگاہوں کا شکار ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اور ہمیں اس کے لئے کیا لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے ؟
اس کا سادا سا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما کر خلافت ارضی ان کو عطا کی اور کم و بیش سوا لاکھ انبیاء کرام مبعوث فرمائے جن سے اس عالم فانی میں خیر کے سلسلے مسلسل جاری و ساری ہیں دوسری جانب ابلیس بھی ہے جس کا عہد ہے وہ انسانوں کو جہنم کا ایندھن بنائے گا اور فرعون، ہامان، شداد، نمرود، بخت نصر، بلعم باعورا، مسیلمہ کذاب، ابو جہل، عبداللہ بن ابی اور غلام قادیانی جیسے اپنے چیلوں کے ساتھ ہمہ وقت اسلام کو نقصان پہنچانے کی تاک میں ہیں اور شیطان مردود کے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد کو پورا کرنے کے لئے رات دن ایک کئے ہوئے ہیں کہ کیسے امت مسلمہ کو دوزخ کی طرف دھکیل کر، ابلیس کے کئے گئے وعدے کو پورا کرکے اپنے جھوٹے معبودوں کی خوشی تلاش کی جائے تو ایسے وقت میں ہمیں یہود و ہنود کے شرور و فتن سے اور آپس اختلافات سے بچنے کے لئے قرآن و سنت پر کاربند ہونا ہوگا اور اپنے ان اکابرین کی قیادت کرنا ہوگی جن کا ایک بھی عمل قرآن و سنت کے خلاف نہیں جاتا کیونکہ قرآن کریم کا ارشاد پاک ہے تمھیں غمگین و افسردہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی مایوس ہونے کی اگر تم ایمان پر مکمل طور پر کار بند رہو۔ لہذا معلوم ہوا کہ ہمارے اوپر جو مصائب و پریشانیاں آ رہی ہیں ان کی اصل وجہ ہماری بزدلی، کمزوری، رات دن کے گناہ اور یہود و ہنود کی پیروی ہے اسلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مسلم نسل نو کو ایمانی حلاوت سے محظوظ فرمائے آمین یا ربّ العالمین ۔۔۔
رہی بات یہ کہ ہم مختلف فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کو کچوکے لگانے میں مصروف ہیں اور ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھ پائے کہ کونسا مسلک راہ راست پر ہے تو ایسے وقت میں ہم کس مسلک کو اختیار کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوں تو اس کا صاف جواب یہ ہے کہ جو بھی مسلک آپ کو ” ما انا علیه و اصحابی ” کی روشنی میں چلتا ہوا نظر آئے تو اسی کو اختیار کرلیں ان شاءاللہ کامیابی و کامرانی ہمارے قدم چومے گی۔۔۔ اللہ تعالیٰ مجھے لکھنے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین
مسلمانوں کی پستی اور اس واحد علاج
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
