Sunday, March 8, 2026
ہومپاکستانچند سال سے عدلیہ میں جو جھگڑا چل رہا ہے وہ صرف ایک گروپ کی اجارہ داری کیلئے ہے، خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں خطاب

چند سال سے عدلیہ میں جو جھگڑا چل رہا ہے وہ صرف ایک گروپ کی اجارہ داری کیلئے ہے، خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں خطاب

اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدلیہ کی عزت بحال کی، وہ عزت سے گھر جا رہے ہیں،جو الفاظ ادا کیے گئے ہیں انہیں کچھ تو شرم و حیا اور احساس ہونا چاہیے، وقت کے ساتھ پارٹیاں بدلنے سے انسانوں کے ضمیر نہیں بدلنے چاہیئں،چند سال سے عدلیہ میں جو جھگڑا چل رہا ہے وہ صرف ایک گروپ کی اجارہ داری کے لیے ہے، ہمیں عدلیہ کو آزاد کرنا تھا لیکن اتنا نہیں کہ وہ ہماری آزادی ہی چھین لے۔
قومی اسمبلی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہاں آنے والے 4 بندوں نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑا، وہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ کر یہاں پہنچے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اس ملک میں سب سے پہلے آئین پر ڈاکہ 1958 میں پڑا، پاکستان میں 1958 میں پہلا آئینی حادثہ ہوا، اس ملک میں سب سے پہلے آئین پر ڈاکہ 1958 میں پڑا، پاکستان میں 1958 میں پہلا آئینی حادثہ ہوا۔خواجہ آصف نے کہا کہ آئین کی بات کرنے والوں کو تاریخ پر نظر ڈالنی چاہیے، آئین کی بات کرنے والوں کو تاریخ پر نظر ڈالنی چاہیے، سیاستدانوں نے بہت سی قربانیاں دی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی باعزت طریقے سے ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 26 ویں ترمیم کا واحد مقصد اس ایوان کے وقار اور عظمت کو بحال کرنا ہے، جسٹس فائز عیسی واحد ہیں جنہوں نے عدلیہ کی عزت بحال کی، سیاستدانوں نے بہت سی قربانیاں دی ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم کو سینیٹ نے منظور کرلیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کا واحد مقصد اس ایوان کے وقار اور عظمت کو بحال کرنا ہے، جسٹس فائز عیسی واحد ہیں جنہوں نے عدلیہ کی عزت بحال کی، 26ویں آئینی ترمیم کو سینیٹ نے منظور کرلیا، ہم اس آئینی ترمیم کے ذریعے ایوان کو بااختیار بنارہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم میثاق جمہوریت کی اصل روح کو بحال کررہے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور مولانافضل الرحمان کیبھی میثاق جمہوریت پردستخط ہیں، اس ایوان کی تمام پارٹیوں کے میثاق جمہوریت پر دستخط ہیں، عدلیہ میں 26 لاکھ کیسز زیرالتوا ہیں، دنیا میں 144 ویں نمبر پر ہے، عدلیہ کے 17، 18 لوگ آسمان سے آئے کہ احتساب نہیں ہوسکتا، اتنا آزاد نہیں کرنا چاہیے تھا کہ وہ ہماری آزادی چھین لیں، قید سیاستدان کاٹیں، شہید سیاستدان ہوں، احتساب بھی سیاستدان بھگتیں، ہم اس آئینی ترمیم کے ذریعے ایوان کو بااختیار بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم میثاق جمہوریت کی اصل روح کو بحال کررہے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمن کے بھی میثاق جمہوریت پردستخط ہیں، اس ایوان کی تمام پارٹیوں کے میثاق جمہوریت پر دستخط ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں 26 لاکھ کیسز زیرالتوا ہیں، دنیا میں 144 ویں نمبر پر ہے، عدلیہ کے 17، 18 لوگ آسمان سے آئے کہ احتساب نہیں ہوسکتا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔