کراچی ،کراچی کی سیشن عدالت نے عزیر بلوچ کو مزید دو مقدمات میں باعزت بری کردیا ہے۔لیاری گینگسٹرعزیر بلوچ کے خلاف پراسیکیوشن پھرناکام ہوگئی ہے۔ کراچی میں پولیس پر حملے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں عزیربلوچ کو مزید 2 مقدمات میں باعزت بری کردیا گیا ہے۔لیاری کے کلاکوٹ اور کلری پولیس اسٹیشن میں عزیر بلوچ کے خلاف مقدمات درج تھے۔ مقدمات میں درج تھا کہ عزیر بلوچ اور اس کے ساتھیوں نے پولیس پر حملہ کرکیسرکاری گاڑی تباہ کی۔ یہ مقدمات عزیر بلوچ کے خلاف 2012 میں درج کیے گئے تھے۔ عزیر بلوچ کے خلاف مجموعی طور پر 67 مقدمات درج ہیں جن میں سے وہ اب تک 17 مقدمات میں بری ہوچکا ہے۔ہفتہ کو انسداد دہشت گردی عدالت میں عزیر بلوچ کا بیان ریکارڈ کرنے والا مجسٹریٹ پیش نہ ہوا تو مجسٹریٹ کی مسلسل عدم پیشی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو ویڈیو لنک یا واٹس ایپ ، اسکائپ یا زوم پر بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عمران امام زیدی نے عزیر بلوچ کا اعترافی بیان قلم بند کیا تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدم پیشی سے عزیر بلوچ کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔عزیر بلوچ نے عدالت کے بیان دیا کہ کبھی اقبالی بیان نہیں دیا اورجوڈیشل مجسٹریٹ کو کئی ماہ سے بلایا جارہا ہے لیکن وہ پیش نہیں ہورہے ہیں۔ عذیربلوچ نے عدالت سے درخواست کی کہ مجسٹریٹ کو پنجتن کی قسم دے کر پوچھا جائے کہ عذیر بلوچ نے 164 کا بیان دیا تھا یا نہیں۔ عذیر بلوچ نے عدالت کو مزید کہا کہ یقین ہے کہ مجسٹریٹ پنجتن کی قسم پر جھوٹ نہیں بولیں گے۔عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی ہے۔لیاری گینگ وار کے سرکردہ کردار عزیربلوچ نے اپنے اقبالی بیان میں کہا ہے کہ سابق صدرآصف زرداری کے کہنے پراپنے گروہ کے 15 سے 20 لڑکے بلاول ہاس بھیجے جنہوں نے بلاول ہاوس کے اطراف 30 سے 40 بنگلے اور فلیٹ زبردستی خالی کرائے۔عزیربلوچ کے اقبالی بیان میں بتایا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی رہنما اویس مظفر ٹپی کو آصف زرداری کے لیے14 شوگر ملوں پر قبضے میں مدد کی۔ بلاول ہاوس کے اطراف بنگلے اورفلیٹ زبردستی خالی کروانے کی آصف زرداری نے انتہائی کم قیمت ادا کی۔عزیر بلوچ کے بیان میں سابق صدرآصف زرداری،اویس مظفر،شرجیل میمن، قادر پٹیل اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماوں پرسنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔عزیربلوچ کے اقبالی بیان میں یہ بھی ہے کہ وہ ایرانی خفیہ ایجنسی کے حاجی ناصر کے ساتھ ایران گیا اور ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسران سے ملاقات کی اور کراچی میں قائم حساس اداروں کے دفاتر اور تنصیبات کے نقشے دئیے اور تصاویر دینے کا وعدہ کیا۔ملاقات میں اہم تنصیبات کے داخلی وخارجی راستوں کی نشاندہی کرائی گئی اورسیکیورٹی پر مامور لوگوں کی تعداد، رہائش اور آمدورفت کا بھی بتایا گیا۔عدالت نے عزیربلوچ کے بیان کو رینجرز اہلکاروں کے قتل کیس کاحصہ بنالیا ہے۔دو ہفتے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے عزیربلوچ کے اقبالی بیان کی نقول اے ٹی سی میں پیش کردی ہیں۔عزیر بلوچ نے بیان دیا کہ سال 2003 میں لیاری گینگ وار میں شمولیت اختیار کی اور سال 2008 میں جیل میں پیپلزپارٹی رہنما فیصل رضا عابدی اور جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن کے کہنے پر پیپلز پارٹی کے قیدیوں کا ذمہ داربنایا گیا۔عزیربلوچ نے بتایا کہ رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کی کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کے نام سے مسلح دہشت گرد گروہ بنایا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بلوچستان سے اسلحہ منگواتے تھے جس کواغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری ،سیاسی جلسوں اور ہڑتالوں کو کامیاب بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔اس کے علاوہ لیاری میں ذوالفقار مرزا، قادر پٹیل اور سینیٹر یوسف بلوچ سے کہہ کر اپنی مرضی کے پولیس افسران تعینات کرانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔عزیر بلوچ نے یہ بھی بتایا کہ پولیس کی مدد سے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا۔ تینوں کے سر تن سے جدا کرکے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا۔اس واردات کی فوٹیج بنا کر وائرل کی تا کہ دہشت پھیلے۔استغاثہ نے عزیر بلوچ کی بریت چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ۔ استغاثہ نے موقف دیا کہ ان مقدمات میں گواہوں کے بیانات پر توجہ نہیں دی گئی جبکہ عزیر بلوچ کو سزا دلوانے کیلئے شواہد موجود ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ مقدمات بحال کرنے اور گواہوں کو ازسرنو سننے کی استدعا کی جائے گی۔ان میں قتل ، اقدام قتل ، اغوا ، پولیس مقابلہ اور غیر قانونی اسلحہ کے مقدمات شامل ہیں۔عزیر بلوچ کے خلاف بیشتر مقدمات میں 2012 سے 2013 تک ہونے والے جرائم شامل ہیں۔3 ماہ قبل عزیربلوچ کے مسلسل بری ہونے سے متعلق عدالت میں پراسیکیوٹر نے انکشافات کیا تھا کہ عذیر بلوچ کے کیسز سے متعلق گواہان و پراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ گواہان پراسیکیوشن اور عدالتی عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔وضح رہے کہ عزیربلوچ کو رینجرز نے 30 جنوری 2016 کو حراست میں لیا تھا۔ رینجرز نے اپریل 2017 میں عزیر بلوچ کو جاسوسی اور غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزامات پر پاک فوج کے حوالے کر دیا تھا، کور 5 نے عزیر بلوچ کو تین سال بعد 6 اپریل 2020 کو پولیس کے سپرد کردیا تھا۔
عزیربلوچ مزید 2 مقدمات میں باعزت بری
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
