واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جی سیون ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران اور حزب اللہ اگلے 24 سے 48 گھنٹے کے دوران اسرائیل پر جوابی حملے کرسکتے ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق، انٹونی بلنکن نے اتوار کو ایک کانفرنس کال میں جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کو بتایا کہ امریکا کے پاس اسرائیل پر ممکنہ ایرانی حملوں کی اطلاعات ہیں تاہم اسے ان حملوں کے وقت کا اندازہ نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے جی سیون ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالیں کہ وہ خطے میں ایک وسیع تر جنگ کو روکنے کے لیے اپنے جوابی حملوں کو محدود رکھے۔
بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکا، اسرائیل اور دیگر اتحادیوں نے 13 اپریل کو اسرائیل پر ایران کے جوابی حملوں کو روکا تھا لیکن اس بار امریکا کو اندازہ نہیں ہے کہ ایران کے جوابی حملے کس نوعیت کے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اسرائیل اشتعال انگیزی میں کمی لانے کے لیے امریکا ایران اور حزب اللہ کے حملوں کی شدت میں کمی لانے کی کوشش کررہا ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک تقریب کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اسرائیل کے خلاف بدلہ لینے کے اپنے ارادے سے پیچھے ہٹ جائے گا تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ ایران ایسا کرے گا یا نہیں۔
خیال رہے کہ امریکا نے اسرائیل پر ایران اور حزب اللہ کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگی بحری بیڑا، کئی جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور مزید ہزاروں فوجی تعینات کردیے ہیں۔
واضح رہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ 31 جولائی کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ہونے والے اسرائیلی میزائل حملے میں شہید ہوگئے تھے، وہ صدر محمود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے اس واقعہ سے ایک روز قبل بیروت کے ایک نواحی علاقے میں واقع ایک عمارت پر 4 میزائل داغے تھے جس کے نتیجے میں حزب اللہ کمانڈر فواد شکر جاں بحق ہوگئے تھے۔
